خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 627
خطبات طاہر جلد ۸ 627 خطبه جمعه ۲۲ / ستمبر ۱۹۸۹ء میں اللہ نے ان کو بیٹا عطا فرمایا اور انہوں نے اس کا نام اعجاز احمد رکھا اور وہ خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور سارے علاقے کے معززین جو بھی مبارک باد دینے آتے ہیں ان کو کہتے ہیں کہ یہ خط پڑھ لو کہ خدا نے یہ بچہ مجھے کس طرح عطا کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دعا ایک ایسا اعجاز ہے جو ہر احمدی کو عطا ہوا ہے۔اس میں صرف خلیفہ وقت کا امتیاز نہیں یہ وہ اعجاز ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زمانے کا ایمان زندہ کرنے کیلئے ہمیں عطا کیا ہے اور یہی معنی ہیں اس بات کے کہ لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله رجال اؤ رجل من هولاء ( بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر : ۴۵۱۸) که اگر ایمان ثریا تک بھی چلا گیا یعنی زمین کلیۂ چھوڑ گیا تب بھی ان لوگوں میں سے وہ ایک شخص پیدا ہوگا یا بعض اشخاص پیدا ہوں گے جو ریا سے ایمان کو کھینچ لائیں گے۔پس دعاؤں کے نتیجے میں ہی ایمان ثریا سے اترا کرتے ہیں اور یہ کام ایک شخص کا نہیں بلکہ رجال کا ہے اور میرے نزدیک رجال سے مراد جماعت احمدیہ کے رجال ہیں اور وہ سارے خدا پرست لوگ خدا رسیدہ لوگ ، خدا نما لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلق باندھتے ہیں اور سچا اخلاص کا تعلق باندھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو یہ اعجاز عطا کرتا ہے کہ ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اپنے فضل کے ساتھ ان دعاؤں کے طفیل وہ دنیا میں آسمان پر گئے ہوئے ایمان کو واپس کھینچ لاتے ہیں۔پس ان قوموں کو آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔صرف بحث و تمحیص کی ضرورت نہیں ہے اور دعاؤں کی ضرورت سے یہ مراد نہیں کہ اپنے ہونٹوں سے سرسری دعائیں کریں یا الگ بیٹھ کر دعائیں کریں خواہ دل کی گہرائی سے دعائیں ہوں بلکہ وہ دعائیں کریں جن کا میں نے ذکر کیا ہے جو خدا کے پائے قبولیت میں جگہ پاتی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نشان بنا دیا کرتا ہے۔ایسی دعائیں ان قوموں کے حالات بدل سکتی ہیں اور اس کے بغیر نہیں۔چنانچہ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آئندہ زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے یہ پیشگوئی فرمائی کہ مسیح نازل ہوگا اور اس کے ساتھ ہی ایک حدیث میں جو بہت تفصیلی ہے اور مسلم میں بھی ہے اور سنن ابی داؤد میں بھی ہے۔اس میں یہ ذکر ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسیح پر وحی نازل فرمائے گا اور یہی وہ حدیث ہے جس میں چار دفع آنے