خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 623
خطبات طاہر جلد ۸ 623 خطبه جمعه ۲۲ / ستمبر ۱۹۸۹ء کا عیسائیت کے ساتھ چمٹے رہنے سے کوئی بھی تعلق نہیں۔ایسے طبقے کو جب آپ دلائل کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو بالعموم یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ وہ لوگ دلائل کی بنا پر عیسائیت کے ساتھ نہیں چھٹے ہوئے اس لئے دلائل کی رو سے ان کو الگ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ان کے اندر ضد پائی جائے گی ،ان کے اندر ہٹ دھرمی پائی جائے گی۔آپ بائبل کے حوالوں سے عہد نامہ قدیم کے حوالوں سے اور عہد نامہ جدید کے حوالوں سے اور عقل کے حوالوں سے ان کو سمجھانے کی کوشش کریں تو بات کے سمجھنے کے باوجود بھی وہ ہٹ دھرمی دکھاتے ہیں اور اکثر وہی طبقہ اس وقت عیسائیت پر مضبوطی سے قائم ہے جو عقل کو رخصت دے کر ایک ضد کے طور پر ایک مذہب کو اپنائے ہوئے ہے اور ان کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ دلائل مذہب کی موجودہ شکل کو سچا دکھاتے بھی ہیں یا نہیں۔پس ایسے لوگوں سے تو دلائل کی بات ہو نہیں سکتی۔وہ لوگ جو اس وقت بھاری اکثریت میں ہیں یعنی یورپ کا نوجوان طبقہ خصوصیت کے ساتھ سیکنڈے نیویا میں نوجوان ہی نہیں بلکہ بڑی عمر کے بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو عیسائیت کے قائل ہی نہیں۔کسی مذہب کے بھی قائل نہیں۔خدا کی ہستی پر اگر ایمان ہے تو ایک سرسری سا دور کا ایمان ہے ورنہ عمداً یہ ایک دہریت کی زندگی بسر کرنے والے لوگ ہیں۔ان قوموں میں ان حالات میں آپ عیسائیت کے خلاف یا عیسائیت کی صحیح تصویر دکھانے کے لئے سچی عیسائیت کے حق میں کیا دلائل دیں گے۔جو بھی آپ دلائل دیں گے ان کی سمجھ اور دلچسپیوں سے بالا تر ہیں۔وہ سمجھیں گے کہ آپ پتانہیں کس زمانے کی باتیں کر رہے ہیں۔اب تو دور بدل چکا ہے ہم لوگ نئے میدانوں میں نکل آئے ہیں۔نئی دلچسپیوں کی تلاش میں ہیں۔ہمیں ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں کہ عیسائیت کیا تھی کیا ہے، کیا ہونی چاہیئے ؟ پس اس پہلو سے آپ کے دلائل اکثر و بیشتر ایسے کانوں میں پڑتے ہیں جن کو ان باتوں میں بنیادی طور پر کوئی دلچسپی نہیں۔ابھی ناروے میں داخل ہوتے ہی رات کو جو کچھ غیر مسلم دوست ملنے کے لئے تشریف لائے تھے ان کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ ان کو اسلام اور احمدیت کے اسلامی نقطۂ نظر میں دلچسپی ہے۔ایک دو باتوں سے ہی مجھے اندازہ ہوا کہ یہ بات درست نہیں ہے۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو مذہب میں کوئی دلچسپی نہیں آپ کو ان لوگوں میں دلچسپی تھی جو آپ کے ہاں آکر آباد ہوئے اور آپ ان سے جو سوال کرتے ہیں وہ محض ایک تجسس کے طور پر کرتے ہیں کہ پتا تو چلے کہ تم لوگ کیا ہو، کیا سوچتے ہو، کیا