خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 624
خطبات طاہر جلد ۸ 624 خطبه جمعه ۲۲ / ستمبر ۱۹۸۹ء تمہارے عقائد ہیں اس سے زیادہ آپ کو دلچسپی نہیں۔انہوں نے ہنس کے کہا کہ ہاں بالکل یہی بات ہے۔یہ بھولے آدمی ہمارے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ان کے دین میں دلچسپی ہے۔ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ہمیں صرف تجسس ہی ہے اور اپنے تجس کی بنا پر ہے کہ پتا تو کریں کہ یہ نئے نئے قسم کے لوگ جو باہر سے آ رہے ہیں ان کا اسلام کیا ہے اور دوسرے قدیم مسلمانوں کا اسلام جس کے متعلق ہمارے علماء نے ہمیں بتایا ہوا ہے کہ وہ کس قسم کا اسلام کا تصور رکھتے ہیں۔ان میں اور ان میں کیا فرق ہے؟ یہ بھی خمینی کے مزاج سا مزاج رکھتے ہیں یا اسی قسم کے بعض دیگر مسلمان سیاسی راہنماؤں کا مزاج رکھتے ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے۔پس یہ دلچسپی ہے کہ یہ معلوم کریں کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں لیکن جب بات کھولنے کے بعد میں نے انہیں احمدیت کے متعلق کچھ وہ باتیں بتائیں جن کا خدا کی ہستی اور مذہبی تاریخ سے گہرا تعلق ہے تو اچانک ان کے اندر ایک دلچسپی پیدا ہوئی اور بالآ خر بہت ہی واضح طور پر انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ یہ جو باتیں آپ نے بتائی ہیں اس میں ہمیں دلچسپی ہے۔پس امر واقعہ یہی ہے کہ اس وقت مغربی دنیا کو تبدیل کرنے کے لئے دلائل کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود ایک دلیل بننے کی ضرورت ہے۔خود خدا نما ہونے کی ضرورت ہے۔آپ کے اندر البی صفات پائی جانی چاہئیں، آپ کے اندروہ قوت پیدا ہونی چاہئے جو خدا سے تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ انسان کے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ان میں سے ہر ایک کے اپنے مسائل ہیں ان میں سے کبھی کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ دعا ایک طاقت ہے اور دعاؤں کے ذریعے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ان کے اندر اچھی انسانیت کی جستجو ہے ان کو یہ علم نہیں کہ اچھی انسانیت مذہب سے عطا ہوتی ہے بلکہ اس کے برعکس یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب انسانیت کے برے نمونے پیش کرتا ہے۔ایسے ایک لمبے دور سے یہ خود گزرے ہوئے ہیں۔جہاں عیسائیت کے راہنماؤں نے ان کے سامنے بداثرات چھوڑے اور جس طرح ہمارے ملک میں ملاؤں کے خلاف مذاق ہوتے ہیں ان کے متعلق دلچسپ قصے سنائے جاتے ہیں ان کی منافقت کے بارہ میں لطائف بیان کئے جاتے ہیں۔اس طرح کا ایک ایسا دور تھا جب عیسائیت کے راہنماؤں سے متعلق بھی یہی باتیں ہوتی تھیں اور بہت سے لطائف مشہور تھے کہ یہ ہمارے مذہبی راہنما ہیں، یہ ان کے اخلاق ہیں اور یہ ان کے کردار ہیں۔پھر ان کے تعصبات ان کی