خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 618
خطبات طاہر جلدے 618 خطبه جمعه ۱۵ر ستمبر ۱۹۸۹ء کہ خدا کا جو حسین تصور بھی آپ نے باندھا ہے وہ آپ کے سفر کا پہلا مقام ہے۔اس تصور کو اپنی ذات میں جاری کرنا شروع کریں اور اپنا جائزہ لیا کریں کہ کیا آپ کے وجود میں کوئی مزید حسن پیدا ہوا ہے کہ نہیں۔کیا دیکھنے والوں نے آپ کے اندر کوئی نئی پاک تبدیلی پائی ہے یا نہیں پائی۔اگر آپ کا حسن بڑھ رہا ہے اور خدا کے قریب ہو رہے ہیں تو جیسا کہ میں نے آپ کے سامنے خوب کھول کر بات رکھ دی ہے خدا بھی آپ کے لئے اور بڑا اور اور بھی زیادہ وسیع تر وجود اختیار کرتا چلا جائے گا اور اس کی عظمت سے آپ حصہ پائیں گے کیونکہ جتنا خدا زیادہ عظیم ہو کر آپ پر ابھرے گا اور جتنا آپ اس کے قریب ہونے کی کوشش کریں گے اتنا ہی آپ کے انسانی دائرے بھی پھیلتے چلے جائیں گے اور آپ کا وجود ایسی وسعت بھی اختیار کر سکتا ہے کہ عام انسان بھی آپ کو حیرت سے دیکھیں۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں اور دعا کی طاقت بڑھانے کے لئے اس نسخے پر بھی عمل کریں جو میں نے آپ کو بتایا ہے۔اس کے بعد پھر ہمارے سامنے بہت سے کام ہیں، بہت سے لائحہ عمل ہیں جن کو ہم نے اختیار کرنا ہے اور خصوصیت کے ساتھ آئندہ صدی کے لئے ہم نے نمونے بنا کر پیش کرنے ہیں کہ اس طرح خدمت دین ہوا کرتی ہے اس طرح دنیا میں روحانی انقلاب بر پا کئے جاتے ہیں۔اس رنگ میں ایسا کام کریں کہ جس طرح صدیاں گزرے ہوئے مجددین کو دیکھتی ہیں اس طرح آپ کی اس نسل کو آئندہ آنے والی صدی مجددین کے طور پر دیکھے۔وہ یہ سمجھے کہ آپ کا مقام ان کے مقابل پر ایسا تھا جیسے مجددین کا مقام ہوا کرتا ہے۔آپ نے ان کے لئے راہیں طے کرنے کے اسلوب روشن کئے ہیں۔آپ نے ان راہوں پر چل کر آگے بڑھ کر ان کے لئے نمونے دکھائے ہیں اور ان کو بتایا ہے کہ کس طرح خدا اور بندے دونوں کی طرف بیک وقت سفر ہوا کرتے ہیں اور کس طرح ان کے فاصلوں کو انسان آپس میں اپنی دعاؤں اور کوششوں کے ذریعے کم کرتا چلا جاتا ہے۔یہ جو آخری بات ہے اس کے متعلق انشاء اللہ آئندہ پھر بھی میں کسی موقع پر بات کروں گا یعنی فاصلے کم کرنے کی بات۔ایک فاصلے کے متعلق تو میں نے آپ کے سامنے بات کھول دی ہے کہ آپ کے اور خدا کے فاصلے کم ہونے چاہئیں مگر کم ہونے سے یہ مراد نہیں کہ واقعی کم ہو جائیں گے۔کم ہونے سے مراد یہ ہے کہ آپ آگے بڑھیں گے اور خدا بھی آگے بڑھے گا لیکن اس کے باوجود جہاں تک آپ کی خاطر پیار سے جھکنے کا تعلق ہے وہ فاصلے کم ہوتے ہوتے بالکل مٹ جائیں گے اور ایسے