خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 614
خطبات طاہر جلدے 614 خطبه جمعه ۵ ار ستمبر ۱۹۸۹ء تعالی تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ہاں اس کی وہ شان ضرور بدلتی ہے اور ہر لمحہ بدلتی ہے جو اپنی مخلوق پر ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔مثلاً موسموں کی تبدیلی کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کی شانیں بدلتی ہیں لیکن حقیقت نہیں بدلتی خدا کی شان کا اظہار بدل رہا ہوتا ہے۔اگر موسم گرم ہو تو کیا خدا کی ذات میں کوئی تبدیلی ہوگی۔اگر موسم ٹھنڈا ہو تو کیا خدا کی ذات میں کوئی تبدیلی ہوگی۔اگر موسم انتہائی طور پر دلوں پر ایک تاریکی پیدا کرنے والا ہو اور ان کے جذبات کو مضمحل کرنے والا ہو جیسا کہ بعض دفعہ Depression پیدا کر دیتے ہیں موسم تو کیا خدا کی ذات میں کوئی تبدیلی پیدا ہوگی اور اگر موسم خوشگوار ہو اور انسان کی سوئی ہوئی مضمحل کیفیتوں کو بیدار کرنے والا اور تازہ کرنے والا ہو تو کیا خدا کی ذات میں کوئی تبدیلی پیدا ہو گی؟ ہرگز نہیں۔لیکن ہاں آپ کے خدا کے تصور میں ضرور فرق پیدا ہوں گے۔مختلف موسموں کے اثرات سے آپ اور طرح خدا کو یاد کریں گے اور یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کا دنیاوی تعلقات سے بھی ایک رشتہ ہے۔شعراء جب ہمارے ملکوں میں جہاں گرمی کا بہت اثر ہوتا ہے ایسی گھٹاؤں کو دیکھتے ہیں جو ٹھنڈے پانی برسانے والی ہوتی ہیں تو اس وقت بے اختیار ان کی طبیعت شعروں کی طرف مائل ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں ہاں اب شعر کے اور موسیقی کے موسم آگئے اور بعض لوگ کہتے تھے پینے پلانے کے موسم آگئے۔جو شاعر نہ بھی ہوں ان کے دلوں میں بھی نئی امنگیں پیدا ہوتی ہیں۔دیہات میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض دفعہ پینگیں چڑھ جاتی ہیں اور سہیلیاں مل کے گانے گانے لگتی ہیں اور پکوان پکانے لگتی ہیں۔تو یہ سارے موسم، بدلے ہوئے موسموں کے اثرات خدا تعالیٰ کی صفات کی جلوہ گری ہے۔پس جلوؤں کی تبدیلی سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ خدا تبدیل ہوتا ہے لیکن جلوؤں کی تبدیلی سے انسان کے دل پر مختلف اثرات ہوتے ہیں۔اس مضمون کو جب آپ انسان کے عرفان کے ساتھ جوڑ کر سمجھنے کی کوشش کریں تو ہر انسان کے عرفان کی ترقی کے ساتھ ساتھ خدا کے جلوے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ایک نیا خدا انسان پر ظاہر ہونے لگتا ہے۔پس اس پہلو سے جب آپ خدا سے تعلق باندھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ جتنے اخلاص کے ساتھ آپ خدا جیسا بننے کی کوشش کریں گے اتنا ہی خدا کا تصور اور زیادہ پھیلتا اور بڑھتا چلا جائے گا۔یہاں تک کہ کوئی بھی ایسا مقام نہیں آسکتا کہ آپ یہ سمجھیں کہ ہم اب خدا کے اتنے قریب ہو گئے