خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 613 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 613

خطبات طاہر جلدے 613 خطبه جمعه ۱۵ر ستمبر ۱۹۸۹ء پس چونکہ یہ آج کا جمعہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کا جمعہ ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ میں نو جوانوں کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے اعمال کو اس رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کریں کہ ان کے خدا کے تصور کے قریب تر ہو جائیں۔یہاں جو میں نے ان کے خدا کے تصور کے قریب تر کا لفظ استعمال کیا ہے یہ عمداً کیا ہے ورنہ خدا تو ایک ہی ہے۔اس کا تصور وہی ہے جو بنیادی تصور قرآن کریم نے پیش کیا ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ آپ کو اس معاملے میں آگے قدم بڑھاتے ہوئے خدا کا جب مزید عرفان حاصل ہو گا تو آپ یہ بات خوب اچھی طرح سمجھ جائیں گے کہ ایک خدا ہونے کے باوجود اور باوجود اس کے کہ وہی تصور ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے پھر بھی ہر انسان کا تصور دوسرے سے مختلف ہوا کرتا ہے اور اس کی توفیق کے مطابق یہ تصور بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔ہر انسان پر خدا ایک طرح ظاہر نہیں ہوا کرتا۔بعض انسانوں کی سوچیں محدود ہوا کرتی ہیں ، بعضوں کے اخلاق ابھی اتنے بلند نہیں ہوتے کہ وہ خدا کی صفات کے لطیف اور ارفع پہلوؤں کو پہچان سکیں۔اس لئے ہر شخص اپنے خدا کا ایک خاص تصور رکھتا ہے اور جب وہ اس تصور کے مطابق خواہ وہ نامکمل ہی کیوں نہ ہو، خواہ وہ ناقص ہی کیوں نہ ہو اعلی تصور کے مقابل پر دیانتداری سے اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ کے تصور میں بھی ایک ارتقاء شروع ہو جاتا ہے۔پھر اس پر ہر روز ایک نیا خدا ظاہر ہونے لگتا ہے اور خدا کی ہر ظاہر ہونے والی شان پہلی شان سے بڑھ کر ہوتی ہے۔پس قرآن نے جب یہ فرمایا کہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنِ (الرحمن:۳۰) کہ ہر روز ہر لمحہ خدا کی شان تبدیل ہوتی رہتی ہے تو اس سے یہی مراد ہے۔یہ مراد تو نہیں ہے کہ نعوذ باللہ خدا تعالیٰ بدلتا رہتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہستی تو تبدیلی سے پاک ہے اور تبدیلی سے بالا ہے۔کوئی ایسی ہستی جواز لی بھی ہو اور ابدی بھی ہو وہ تبدیل نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر وہ تبدیل ہوگی تو نہ تو وہ ازلی رہے گی نہ وہ ابدی رہے گی۔اس نقطے کو سمجھتے ہوئے ہزار ہا سال سے فلاسفروں نے اس پر بحث کی اور دنیا کے مختلف ممالک کے قدیم اور جدید فلسفی اس نتیجے تک پہنچے اپنی عقل کی سوچوں کے ذریعے ، اپنی عقل کی کا وشوں کے ذریعے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی میں تبدیلی ممکن نہیں اور مذاہب کے مطالعہ سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کیونکہ خدا کی ہستی میں تبدیلی اس کے ازل پر بھی حملہ کرتی ہے اس کے ابد پر بھی حملہ کرتی ہے۔پس قرآن کریم جب فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ تو ہرگز یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ خدا