خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 609
خطبات طاہر جلدے 609 خطبه جمعه ۵ ار ستمبر ۱۹۸۹ء اب دیکھئے کتناز مین آسمان کا فرق ہے۔جذبہ ہمدردی بظاہر وہی ہے جو انسان کے گہرے فطری تقاضوں سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی مظلوم کی مدد کی جائے مگر کہاں وہ مظلوم جو دور کے ملکوں سے آنے والے ہیں کہاں اپنے وہ بھائی جو مشرقی جرمنی سے تعلق رکھتے ہیں ان دونوں کے درمیان بڑا فرق ہے لیکن یہ انسانی فطرت ہے۔اس فطری تقاضے کو مٹایا نہیں جاسکتا۔جماعت احمدیہ کی اپنی ایک شخصیت ہے جو کوئی ملکی شخصیت نہیں وہ ایک بین الاقوامی شخصیت ہے۔ایک سو بیس ممالک سے تعلق رکھنے والی یہ جماعت ہے لیکن اس کے باوجود ایک سو بیس ممالک میں سے ہر ملک جماعت کی شخصیت پر اپنے رنگ میں بھی اثر انداز ہوتا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں ان شخصیتوں کوملحوظ رکھا جاتا ہے۔اس مشکل کو دور کرنے کے لئے وہی ذریعہ ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کے دعا کے ذریعے خدا سے تعلق باندھا جائے جو جماعت احمدیہ کی طرح عالمگیر ہی نہیں بلکہ ساری کائنات کا مالک ہے اور اس کے ساتھ ایسا تعلق باندھا جائے کہ ہر دوسرے انسانی تعلق سے وہ تعلق بڑھ جائے۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس غیر معمولی تعلق کے بعد خدا آپ کے ساتھ وہ سلوک نہ کرے جو قو میں اپنے ہم قوموں کے ساتھ سلوک کیا کرتی ہیں ، جو مائیں اپنے بچوں کے ساتھ سلوک کیا کرتی ہیں۔وہ سلوک ان سب رشتوں سے بڑھ کر ہوگا لیکن اس کے لئے انسان کو اپنے اندر کچھ پاک تبدیلیاں پیدا کرنی پڑتی ہیں اور خدا کے جیسا ہونے کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔یہ مضمون بھی سمجھنے سے تعلق رکھتا ہے اور بڑے غور سے آپ کو اس کو سمجھنا اور دلنشین کرنا چاہئے۔جتنی بھی مثالیں میں نے آپ کے سامنے رکھیں یا اور مثالیں جو آپ سوچ سکتے ہیں ان میں ایک بات غور کے نتیجے میں آپ پر خوب کھل جائے گی کہ وہ تعلقات جن میں مشابہت پائی جاتی ہے وہ زیادہ مؤثر ہوتے ہیں اور جتنی زیادہ تعلقات میں مشابہت بڑھتی چلی جائے گی اتنی ہی زیادہ وہ مؤثر ہوتے چلے جائیں گے۔ماں اور بچے کے درمیان حد سے زیادہ مشابہت پائی جاتی ہے۔یہ دونوں ایک ہی وجود کا حصہ ہوتے ہیں، ایک ہی جیسی سوچیں سوچنے والے فطرتا اور ایک ہی جیسے خون کے مالک ہوتے ہیں۔ان کے دماغ بھی ملتے ہیں، ان کے دل بھی ملتے ہیں، ان کے اعضاء بھی ملتے ہیں، چہروں کے نقوش بھی ملتے ہیں لیکن اگر ظاہری نقوش نہ بھی ملیں تب بھی آپس میں اشتراک کی