خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 603
خطبات طاہر جلد ۸ 603 خطبہ جمعہ ۸ ستمبر ۱۹۸۹ء کی خصوصیت سے ضرورت ہے۔بچوں کو تو ہم سنبھال لیں گے۔ہم ان کو کسی جامعہ میں داخل کریں گے کسی خاص ملک میں ان کا تعین ہوگا تو اس زبان کے اوپر ان کو ماہر بنانے کی کوشش کی جائے گی لیکن بچیوں پر ہمارا ایسا اختیار نہیں ہو سکتا۔نہ مناسب ہے نہ اسلام اس کی اجازت دیتا ہے کہ اس طرح بچپن میں ان کو الگ کر کے پوری طرح جماعتی نظام کے تابع کیا جائے۔اس لئے والدین کا دخل بچیوں کے اوپر لازمی جاری رہے گا یا بعد میں ان کے خاوندوں کا۔اس لئے اگر وہ زبانیں سیکھ لیں تو گھر بیٹھے بڑی آرام سے خدمت کر سکتی ہیں اور جب زبانیں سیکھیں تو جس وقت ان کے اندر صلاحیت پیدا ہوان کو پھر اس زبانوں میں ٹائپ کرنا بھی سکھایا جائے اور ان زبانوں کا لٹریچر ان کو پڑھایا جائے۔یہ نہ سمجھیں کہ زبان بولنا چالنا کافی ہوتا ہے یا لکھنے پڑھنے کا سلیقہ آجائے تو یہ کافی ہے۔لٹریچر جتنا زیادہ پڑھا جائے اتنا ہی زبان میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔اس لئے پھر کثرت کے ساتھ ان کو رشین کلاسیکل ناول پڑھانے پڑیں گے، رشین کلاسیکل مضامین، کلاسیکل شعراء، ماڈرن شعراء اور یہی حال چینی زبان میں بھی ہوگا تا کہ بچپن سے ہی ان کا علمی ذخیرہ اتنا وسیع ہو جائے کہ وہ بڑی سہولت کے ساتھ ، ایک فطری رو کے ساتھ از خود علمی کاموں میں آگے بڑھتے چلے جائیں۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ واقفین زندگی اس پیغام کو اچھی طرح ذہن نشین کریں گے اور آخری بات یہی ہے پھر بھی کہ اس کے ساتھ ان کی عظمت کردار کے لئے ابھی سے کوشش شروع کر دیں۔بچپن میں کردار بنائے جاتے ہیں دراصل۔اگر تاخیر ہو جائے تو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔وہ محاورہ ہے کہ لوہا گرم ہو تو اس کو موڑ لینا چاہئے لیکن یہ جو بچپن کا لوہا ہے یہ خدا تعالیٰ ایک لمبے عرصے تک نرم ہی رکھتا ہے اور اس نرمی کی حالت میں اس پر جو نقوش آپ قائم کر دیتے ہیں وہ دائمی ہو جایا کرتے ہیں۔اس لئے یہ وقت ہے تربیت کا اور تربیت کے مضمون میں یہ بات یاد رکھیں کہ ماں باپ جتنی چاہیں زبانی تربیت کریں اگر ان کا کردار ان کے قول کے مطابق نہیں تو بچے کمزوری کو لے لیں گے اور مضبوط پہلو کو نہیں لیں گے۔یہ دو نسلوں کے رابطے کے وقت ایک ایسا اصول ہے جس کو بھلانے کے نتیجے میں قومیں ہلاک بھی ہو سکتی ہیں اور یا درکھنے کے نتیجے میں ترقی بھی کر سکتی ہیں۔ایک نسل اگلی نسل پر جواثر چھوڑا کرتی ہے اس میں عموماً یہ اصول کارفرما ہوتا ہے کہ بچے ماں باپ کی کمزوریوں کو