خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 602 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 602

خطبات طاہر جلد ۸ 602 خطبہ جمعہ ۸/ستمبر ۱۹۸۹ء پنگھوڑوں میں زبان سکھائی جائے تو یہ بھی بہت اچھا ہے بلکہ سب سے اچھا ہے۔ایسی اگر دائی مل جائے ، ایسی نرس مل جائے اور جو تو فیق رکھ سکتے ہیں ایسی نرسوں کو رکھنے کی وہ رکھیں جو چینی نرس ہو تو وہ بچوں کو بچپن سے گود میں کھلاتے کھلاتے چینی زبان سکھا سکتی ہے۔روسی زبان جاننے والی اہل زبان کوئی عورت مل جائے تو بچے اس کے سپرد کئے جاسکتے ہیں۔تو یہ تو باتیں حسب توفیق ہوں گی مگر جن کو توفیق ہے ان کو چاہئے کہ وہ بہت بچپن سے اپنے بچوں کو چینی اور روسی زبان سکھانے کی کوشش کریں۔اس سلسلے میں میں کوئی پابندی نہیں لگا تا کہ ہمیں سو کی ضرورت ہے یا ہزار کی ضرورت ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اتنی بڑی قومیں ہیں اور ان کو اتنی عظمت حاصل ہے اس وقت دنیا میں کہ اگر یہ دونوں قومیں مثلاً دنیاوی لحاظ سے اکھٹی ہو جا ئیں تو ساری دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ جائے یعنی ان کے حق میں ہو جائے اور باقی دنیا کے خلاف ہو جائے اور بہت سی بڑی بڑی سیاسی تبدیلیاں پیدا ہو جائیں۔ان کا اس وقت الگ الگ ہونا ہی بعض قوموں کے لئے خوش قسمتی ہے اور وہ زبردستی بھی دخل اندازی کر کے اس خوش قسمتی کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض دفعہ غلطیاں کرتے ہیں اور الٹے نتیجے نکلتے ہیں۔مگر جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہمیں ان کے لڑنے یا نہ لڑنے ، دشمنی یا دوستی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اسلام دونوں کے لئے برابر ہے اور ہم نے جو اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اس کے لئے ہمیں زبان دانوں کی ضرورت ہے ہر قسم کی زبان دانوں کے ضرورت ہے جو تحریر کی مشق بھی رکھتے ہوں، بولنے کی مشق بھی رکھتے ہوں، ترجموں کی طاقت بھی رکھتے ہوں، تصنیف کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔اس لئے جتنے بھی ہوں کم ہوں گے۔یعنی ایک ارب کے لگ بھگ یا شاید اس سے زائد اب چین کی آبادی ہے اور روس اور روسی زبان جاننے والوں کی آبادی بھی بہت وسیع ہے۔مجھے اس وقت پوری طرح یاد تو نہیں لیکن پچاس کروڑ سے زائد ہوں گے جو روسی زبان جاننے والے لوگ ہیں یا بولنے والے۔اس لئے اگر سارے واقفین بھی یہ زبان سیکھ لیں تو وہ کوئی زیادہ نہیں ہو گا۔بچوں کو بھی سکھائیں لیکن بیٹیوں کو خصوصیت سے کیونکہ علمی کام میں ہمیں واقفین بیٹیاں بہت کام آسکتی ہیں۔انہوں نے میدان میں نہیں جانا ہو گا لیکن وہ تصانیف کریں گی ، وہ گھر بیٹھے ہر قسم کی خدمت کے کام اس طرح کر سکتی ہیں کہ اپنے خاوندوں سے ان کو الگ نہ ہونا پڑے۔اس لئے ان کو ایسے کام سکھانے