خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد ۸ 601 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۸۹ء پھر ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔خواتین ڈاکٹروں کو خدا تعالیٰ اگر توفیق دے تو وہ بہت بڑی خدمت کر سکتی ہیں اور بہت گہرا اثر چھوڑ سکتی ہیں اور اس رستے سے پھر وہ اسلام کے پیغام دینے میں بھی دوسروں پر فوقیت رکھتی ہیں اس لئے احمدی خواتین کو ڈاکٹر بن کر اپنی زندگیاں پیش کرنی چاہئیں یا ان بچیوں کو ڈا کٹر بنایا جائے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے وقف نو میں پیدا ہوئی ہیں۔اس طرح میں نے زبانوں کا کہا تھا اور جن زبانوں کی ہمیں ضرورت پڑنے والی ہے ان میں روسی اور چینی دو زبانیں خصوصیت کے ساتھ اہمیت رکھتی ہیں۔جماعت احمدیہ میں جن زبانوں میں کمی ہے ان میں ایک سپینش ہے مثلاً اس کی طرف توجہ شروع کر دی گئی ہے خدا کے فضل سے۔فرانسیسی میں ہمارے بہت سے فرنچ سپیکنگ افریقین ممالک ہیں جہاں کثرت سے اچھی فرانسیسی بولنے والے ہمیں مہیا ہو سکتے ہیں اور ہورہے ہیں خدا کے فضل سے لیکن چینی زبان میں اور روسی زبان میں ہم بہت کمی محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح Italian میں بھی کمی ہے مگر سب سے بڑی ضرورت اس وقت اور عظیم ضرورت چینی اور روسی زبان جاننے والے احمدیوں کی ہے۔اس لئے جہاں نوجوان جن کو یہ سہولت حاصل ہو تعلیمی اداروں میں اس طرف توجہ کر سکیں ان کو بھی میری یہی نصیحت ہے کہ وہ توجہ کریں لیکن یہ جو نئے پیدا ہونے والے بچے ہیں ایسے ملکوں میں جہاں چینی اور روسی زبان سکھانے کی سہولتیں موجود ہوں ان کو بچپن سے ان کو سکھانا چاہئے اور ان کی ایمبیسی سے رابطہ کر کے اگر کچھ ٹیسٹس وغیرہ مہیا کی جاسکیں ، ویڈیوز مہیا کی جاسکیں ، بچوں کے چھوٹے چھوٹے رسالے، کہانیوں کی کتابیں وغیرہ یہ مہیا کی جائیں۔تو بہت بچپن سے اگر زبان سکھائی جائے تو وہ اتنے گہرے نقش دماغ پر قائم کر دیتی ہے کہ اس کے بعد بچے اہل زبان کی طرح بول سکتے ہیں اور بڑی عمر میں سیکھی ہوئی زبان خواہ آپ کتنی محنت کریں وہ اہل زبان جیسی زبان نہیں بنتی۔طوعی اور فطری طور پر جو ذہن سوچتا ہے وہ بچپن سے اگر سیکھی ہوئی زبان ہے تو وہ سوچ اس کی بے ساختہ ہوتی ہے، قدرتی اور طوعی ہوتی ہے لیکن اگر بعد میں زبان سیکھی جائے تو سوچ پہ کچھ نہ کچھ قدغن رہتی ہیں، کچھ نہ کچھ پابندیاں رہتی ہیں اور پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھانا پڑتا ہے۔بعض لوگ نسبتاً تیز بڑھاتے ہیں بعض آہستہ مگر وہ جوطبعی فطری روانی ہے وہ پیدا نہیں ہو سکتی۔اس لئے اہل زبان بنانے کے لئے بہت بچپن سے زبان سکھانی پڑتی ہے۔اگر