خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 595

خطبات طاہر جلد ۸ 595 خطبہ جمعہ ۸ ستمبر ۱۹۸۹ء شریف دل ہیں ان کو شرافت جیت لیتی ہے جو بد کردار لوگ ہیں یا کبھی رکھنے والے لوگ ہیں وہ اپنے دل کے مرض کا شکار ہو جایا کرتے ہیں لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ ایسے داعین الی اللہ کی ضرورت ہے جن کی زبان بھی قول حسن پر قائم رہے اور قول حسن کی تعریف میں پہلے بارہا کر چکا ہوں۔اس میں دلیل کی بات نہیں ہے صرف اس میں حسن کلام کی بات ہے یعنی ایسے رنگ میں بات کی جائے جس میں دلکشی پائی جائے۔پس بات کے انداز میں دلکشی ہو اور کردار اعلیٰ اور مضبوط ہو اور کردار لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والا ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔یہ دوشرطیں خدا تعالیٰ نے لگا دی ہیں اس کے بعد فرمایا ہے کہ جاؤ میدان میں کامیابیاں تمہارے قدم چومیں گی۔وہ جو تمہاری جان کے دشمن ہیں یہاں تک یہ آیت فرماتی ہے آگے جا کے وہ جاں نثار دوست بن جائیں گے لیکن ایک اور شرط ساتھ یہ لگائی کہ صبر بھی ساتھ رکھنا وہ لوگ جوصبر کے ساتھ ان باتوں پر قائم رہیں گے یعنی قول حسن کے ذریعے خوبصورت کلام کے ذریعے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتے رہیں گے اور ان کا کردار ان کے کلام کو جھٹلانے والا نہیں بلکہ تقویت دینے والا ہوگا ان کو یہ خوشخبری ہے کہ اگر وہ صبر کے ساتھ استقامت کے ساتھ اس طریق پر کارگر ہوں تو ان کے لئے کامیابیاں ہی کامیابیاں ہیں اور دشمنی کا ذکر ضرور فرمایا کہ قول حسن اور اعلیٰ کردار کے باوجود دشمنی ہوا کرتی ہے۔فرمایا تم اس پر قائم ہو جاؤ دشمنیاں تبدیل کرنا ہمارا کام ہے اور ہم دشمنوں کے دلوں سے رحمت کے چشمے پھوڑ دیں گے یہاں تک کہ وہ لوگ جو تمہارے خون کے پیاسے ہیں تم پر خون نچھاور کرنے میں اپنا فخر سمجھیں گے۔کتنا عظیم الشان پیغام ہے اور کتنے مختصر الفاظ میں خدا تعالیٰ نے اس سارے مضمون کو وہ جو ایک سمندر کی طرح ہے ایک کوزے میں بند کر دیا ہے۔پس داعین الی اللہ کے لئے بڑا ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے کردار کا محاسبہ کریں اور اپنے طرز کلام کا بھی محاسبہ کریں۔بہت سے مبلغین میں نے ایسے دیکھے ہیں جو زندگیاں تبلیغ میں صرف کرتے ہیں لیکن ان کی بات کاٹنے والی ہوتی ہے۔وہ جب آگے سے کوئی سختی کی بات سنتے ہیں یا تیزی دیکھتے ہیں تو جواب میں بھی وہ تیزی پیدا کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں دشمن کو شکست دینا ہمارا کام ہے حالانکہ دشمن کو شکست دینا ہر گز کام نہیں ہے دشمن کا دل جیتنا کام ہے۔فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيدٌ ( حم السجدہ : ۳۵) یہ مقصد بنا دیا ہے