خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 54

خطبات طاہر جلد ۸ 54۔۔۔۔۔خطبہ جمعہ ۲۷ / جنوری ۱۹۸۹ء زور دیں، جھوٹ کے دفع کرنے ، جھوٹ کے قلع قمع کرنے پر۔اب بچوں سے آپ جب پوچھیں گے تو شائد کوئی بچہ یہ نہ تسلیم کرے کہ میں جھوٹ بولتا ہوں اور جو بچے جھوٹ بولتے ہیں وہ تسلیم بھی کیسے کر سکتے ہیں کیونکہ یہ جرات بچے بچے کو ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمزوری کو تسلیم کر لے لیکن جب ان کو پیار سے آپ سمجھا ئیں گے تو ایسے مواقع پیش آئیں گے جہاں آپ ان کو نمایاں طور پر بتا سکتے ہیں کہ اس لطیفے میں جو تم نے بات کہی ہے یہ غلط ہے اور یہ جھوٹ کی قسم ہے اس لئے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی تم جھوٹ سمجھتے ہوئے یہ عہد کر لو کہ انگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے میں اس بد عادت کو ترک کر دوں گا۔جھوٹ پر آپ جتنا غور کریں گے آپ کو معلوم ہو گا کہ اس کی بے شمار قسمیں ہیں اور بہت سے سچے آدمی بھی جھوٹ کی بعض قسموں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اور ان کو پتا بھی نہیں لگتا کہ بعض اپنی زندگی کے بعض دائروں میں وہ جھوٹے ہیں۔لطیفہ سناتے وقت یعنی ایسا لطیفہ جو واقعات پہ مبنی ہو اس کو اس کی زیبائش کے لئے جو مبالغہ آمیزی کرتے ہیں وہ جھوٹ ہوا کرتا ہے۔اگر لطیفہ فرضی ہو تو اس میں تو جھوٹ کا کوئی سوال ہی نہیں لیکن کسی شخص کے متعلق یہ واقعہ بیان کرنا کہ اس نے یہ بات کہی تھی اور اس میں زیب داستان کی خاطر اپنی طرف سے باتیں گھڑ کے داخل کر لینا بعض اوقات جھوٹ ہی نہیں بلکہ اپنے بھائی کی تحقیر کا موجب بن جاتا ہے اور ایک بدی نہیں بلکہ دو بدیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں۔اور میں نے دیکھا ہے کہ بچوں میں اگر شروع سے ہی اس عادت کو روکا نہ جائے تو بڑے ہو کر یہ عادت بڑی بھیانک شکل اختیار کر لیتی ہے۔جھوٹ اور تکبر اور استہزاء یہ ساری چیزیں اکٹھی پیدا ہوتی اور بڑھتی اور پنپتی ہیں۔تو اس لئے ان امور پر تفصیل سے آپ کو نظر ڈالنی ہوگی اور بچوں کی تربیت میں ان باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کو سمجھانا ہوگا کہ دیکھو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت فرمائی تھی کہ اگر تم نے ایک ہی بدی چھوڑنی ہے تو جھوٹ کو چھوڑ دو اور پھر وہ مثال آپ بیان کر سکتے ہیں کہ کس طرح رفتہ رفتہ اس کی ساری بدیاں ترک ہو گئیں اور جھوٹ چھوڑنے کے نتیجے میں وہ دوسری بدیاں چھوڑنے پر مجبور ہو گیا ( تفسیر کبیر امام رازی جلد ۸ صفحہ ۱۷۶) اسی لئے قرآن کریم نے شرک کی نجاست کے ساتھ جھوٹ کی مثال بیان فرمائی ہے اور اکٹھا بیان کیا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جھوٹ تمام گناہوں کی جڑ ہے اور اس جڑ کو تلف کر دیں تو ضروری نہیں کہ ایک دم سا را درخت زمین پر آ گرے لیکن رفتہ رفتہ آپ دیکھیں گے کہ جس طرح درختوں کی جڑیں بیمار ہو جاتی ہیں اور مرجاتی ہیں تو پہلے