خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 583

خطبات طاہر جلد ۸ 583 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء میں مبتلا کر دیا ہے، شراب نوشی محض چند لمحات کی بدنی لزتوں کا نام نہیں بلکہ شراب نوشی دن بدن ان کی زندگی کے اندر گہرے طور پر سرایت کرتی چلی جارہی ہے اور ان میں ایک بڑا طبقہ ایسا ہے جو شراب نوشی کا غلام بن کر رہ گیا ہے چنانچہ ڈرگ کی عادت جو ان قوموں میں زیادہ بڑھتی چلی جارہی ہے یہ بھی اسی غلامانہ رجحان کی بڑھی ہوئی شکل ہے۔ایک چیز کی جب انسان عادت اختیار کر لیتا ہے تو اس کی زنجیروں میں باندھا جاتا ہے اور پھر وہیں بات ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ عادت اپنی ذات میں مزید عادتوں کی طرف انسان کو لے جاتی ہے جن چیزوں میں پہلے لذت ملتی تھی اُن چیزوں میں رفتہ رفتہ لذتیں کم ہو جاتی ہیں یقینا ایک دن ایسا آتا ہے کہ انسان اللہ کو بھلا کر ایک اور عادت میں مبتلا ہوتا ہے اور جب اُس عادت کا غلام بن جائے اور اُس سے پھر ا گلا قدم اٹھتا ہے اور ایک اور عادت کا غلام بن جاتا ہے۔چنانچہ یہ زنجیریں ایسی ہیں جو بڑھتی چلی جاتی ہیں اور زیادہ بوجھل ہوتی چلی جاتی ہیں۔سارا معاشرہ بوجھل ہو جاتا ہے اور انسانی زندگی نئی نئی عادتوں اور نئی بداخلاقیوں کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے۔اور یہی وہ چیز ہے جو بالآخر ان معاشروں کو اور ان تمدنوں کو ہلاک کرنے کا موجب بنتی ہے۔یہی وہ چیز ہے جب وہ آگے بڑھتی ہے تو اسی سے ان تمدنوں کی ہلاکت کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔اس صورت حال کو گہری نظر سے دیکھنے سے آپ کو خوب اچھی طرح معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ جو فرماتا ہے کہ ہم دنیا کی لذتوں کو ، دنیا کی سطح پر بسنے والی چمک کو ملیا میٹ کر دیں گے اور تباہ کر دیں گے اور ویران بنا دیں گے۔اُس سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ خود آسمان سے دنیا کو مٹائے گا اور آسمان سے کچھ تباہیاں نازل کرے گا جو ان کو ہلاک کریں گی اور اس سے مراد یہ ہوا کرتی ہے کہ تمہارا معاشرہ جن باتوں پر مبنی ہے یا اس قسم کا تمدن جن بنیادوں پر قائم ہے وہ بنیاد میں کھوکھلی ہیں اور وہ معاشرے کا تانا بانا اپنی ذات میں ہلاک ہونے والا ہے چنانچہ اس نقطہ نگاہ سے اب میں آپ کے سامنے اس تشریح کو زیادہ روشن کر کے پیش کرتا ہوں۔تو آپ دیکھنے لگ جائیں گے کہ کیوں اس تمدن سے کسی تمدن کی ہلاکت کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔جوں جوں بعض قوموں کو زیادہ Sufisticated چمک دمک والی اور تیز دار زندگی بسر کرنے کی عادت پڑتی چلی جاتی ہے اتنا ہی زیادہ اُن کی اقتصادیات اُن کی لذت یابی کی غلام ہوتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ھل من مزید