خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 582 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 582

خطبات طاہر جلد ۸ 582 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء غلامی بھی رکھا جا سکتا ہے۔جب آپ ان کو اسلام کے نام پر یا خدائے واحد کے نام پر اس معاشرے سے روگردانی کرتے ہوئے اسلام کے سادہ اور پاکیزہ معاشرے کی طرف آنے کی دعوت دیتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ تم ہماری آزادی پر قدغن لگاتے ہو۔تم کہتے ہو کہ ہم تمہارے نظریات کو قبول کرتے ہوئے اپنی روز مرہ زندگی کو ان پابندیوں کی نظر کر دیں۔ہماری خواہشات پر پابندی ہے، ہمارے ملنے جلنے پر پابندی ہے، ہم کس طرح کمائیں اُس پر پابندی ہے، کیا کھائیں اور کیا نہ کھا ئیں اُس پہ پابندی ہے، ہر بات پر تو تم پابندیاں لگا رہے ہو اور ہم آزاد منش قوم ہیں۔ہم صرف اُسی پیغام کو قبول کرنے پر تیار ہیں جو انسانی آزادی کا علمبر دار ہوا اور بے وجہ پابندیوں میں نہ جکڑے۔پس اس نقطہ نگاہ سے اسلام کی تعلیم اُن کو پابندیوں کی تعلیم دکھائی دیتی ہے۔تم نے شراب نہیں پینا، تم نے بیوی پر زیادہ بختی نہیں کرنی تم نے سور نہیں کھانا تم نے سود نہیں کھانا تم نے یہ نہیں کرنا تم نے وہ نہیں کرنا۔عورت کے خلاف نہیں کرنا۔جگہ جگہ ، قدم قدم پر روزانہ کی زندگی میں پابندیاں ہی پابندیاں ہیں۔پس اس معاشرے کی خوبصورتی پر فدا ہونے والے لوگ اپنی آزادی کے خلاف یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کے نام پر انہیں پابندیوں کی طرف بلایا جارہا ہے لیکن قرآن کریم جس نقطہ نگاہ سے ان باتوں کو پیش کرتا ہے اس کے لحاظ سے اسی منظر کا ذرا زاویہ بدل کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ تو غلام ہیں۔ہر وہ چیز جس کے ساتھ انسان اپنی زندگی کو اس طرح وابستہ کر لے کہ اُس سے تعلق نہ توڑ سکے یہ ایک قسم کی محض خوفناک غلامی ہوتی ہے اور یہ غلامی شراب کی عادت میں جو ان کو ملتی ہے یہ غلامی جو میوزک کی عادت میں آپ کو ملتی ہے۔یہ غلامی اور بعض کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ یہاں تک کہ کافی پینے سے بھی وابستہ ہوتی ہے اور آپ مزید غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جوں جوں معاشرہ زیادہ Sufisticate ہوتا چلا جائے گا، زیادہ تیز دار ہوتا چلا جاتا ہے۔انسانی زندگی روزمرہ مزید گرفتار ہوتی چلی جارہی ہے یا چلی جاتی ہے اور اُس معاشرے کی عادتوں سے ہٹ کر انسان زندگی نہیں گزار سکتا چنا نچہ اُن لوگوں کو اپنی روز مرہ کی عادتوں سے ہٹا کر کسی الگ جگہ ایسی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جائے جہاں یہ روز مرہ کی عادتیں پوری نہ ہو سکیں تو بے آرام ہو جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ زندگی پر ظلم ہو گیا چنانچہ در اصل جس کو یہ آزادی کہہ رہے ہیں وہ غلامی ہے بعض لذتوں کی اور لذتوں کی غلامی سے انسان کو خدا تعالیٰ نجات دلانا چاہتا ہے۔یہ جو غلامی کی عادت ہے ان کی اس نے ان کو ہر قسم کے نشے