خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 581
خطبات طاہر جلد ۸ 581 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء نکالتے ہو جس سے تم ناچ گانے کے تصور کو نکال دو اور اس کے بغیر ایک بیہودہ لغوسی زندگی کی طرف واپس چلے جاؤ وہ اس طرح آپ کو دیکھیں گے جس طرح آپ پاگل ہو گئے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی تبلیغ کی راہیں سب سے زیادہ روشن ہیں۔آپ دیگر تمام عوامل پر غور کر کے دیکھ لیں وہ تمام بظاہر جو فرق ہیں اسلام میں اور دیگر مذاہب میں ان فرقوں پر غور کر کے دیکھ لیں عقلاً ان دوسری قوموں پر یہ ثابت کرنا کوئی مشکل نہیں کہ اسلامی تعلیم زیادہ معقول ، زیادہ دلنشین اور زیادہ اس لائق ہے کہ انسان اس تعلیم کو عقلی لحاظ سے اپنائے چنانچہ جہاں تک عقلی تقاضوں کا تعلق ہے۔اسلامی تعلیم کی برتری غیروں پر ثابت کرنا ہر گز مشکل نہیں۔وہ لوگ جو مغربی دنیا میں بسنے والے کو تبلیغ کرتے ہیں اُن کو بارہا اس بات کا تجربہ ہوتا ہے کہ نظریاتی لحاظ سے اسلام کی پیش کردہ تو حید کو اُن کی مسخ شدہ توحید کے تصور سے بہتر دکھایا گیا ہے اور اُن پر ثابت کر دیا گیا کہ اسلام کا توحید کا تصور زیادہ حسین، زیادہ کامل اور زیادہ قبول کرنے کے لائق ہے اور جس توحید کا تم تصور باندھے ہوئے ہو وہ دراصل تصور تو حید نہیں بلکہ اُس کے اندر بہت سے رخنے پڑ چکے ہیں بظاہر وہ ختم ہو چکی ہیں اور اُسے کامل تو حید کہنا عقل اور منصف کے خلاف ہے۔یہ بات ثابت کرنا کچھ مشکل نہیں کہ ایک ایک ہی ہے اور ایک تین نہیں ہوسکتا تین ایک نہیں ہو سکتے اور آج کل کے زمانے کے جو نئے جوان ہیں وہ ان باتوں کو سمجھ سکتا ہے کیونکہ وہ خود عیسائیت کے قدیم تصورات سے باہر کی طرف نکل چکے ہیں اور عیسائیت کے جو اعتقادی حصے ہیں اُن پر عملاً آج کے مغربی نوجوان کو اعتماد نہیں رہا اس لئے نظریاتی لحاظ سے آپ آسانی سے یہ بات اُن کے لئے ثابت کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مسلمان ہونے کو تیار نہیں۔کیوں نہیں ہوگا اس لئے کہ وہ اُس معاشرے کے اندر جکڑا ہوا ہے جس معاشرے کا قرآن کریم نے نقشہ کھینچا ہے۔وَإِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً کہا کہ اتنی کشش پیدا کر دی ہے ہم نے سطح زمین پر رونما ہونے والی چیزوں میں کہ لوگ اس کشش سے قلبی طور پر اس طرح وابستہ ہو جاتے ہیں کہ گویا اُس کے غلام ہو چکے ہیں اور اُس غلامی سے چھٹکارے کی کوئی شکل نظر نہیں آرہی۔اب اس نقطہ نگاہ کو جب آپ مزید کھنگالیں ، جب آپ مزید تجزیہ کریں تو ایک بڑی دلچسپ صورت یہ سامنے آتی ہے کہ ایک ہی چیز کا نام آزادی بھی رکھا جا سکتا ہے اور اسی چیز کا نام