خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد ۸ 579 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء آنکھوں کے سامنے ابھرتا ہے وہ لوگ جو دنیا کے جدید تقاضوں کو پورا نہ کرتے ہوں ، وہ لوگ جو دنیا کے جدید تمدن پر فریفتہ نہ ہوں اُن کی روح کو دنیا والے پرانے زمانے کا کہا کرتے ہیں اور کچھ لوگ اُن کو ایسے دکھائی دیتے ہیں جو غاروں کے بسنے والے زمانے کے لوگ ہیں چنانچہ اس تمدنی تقابل کے نقطہ نگاہ سے جب ہم قرآن کریم کی ان آیات پر غور کرتے ہیں۔تو دنیا میں بسا اوقات ہمیں انسانی تاریخ ایسے ادوار سے گزرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ جس میں دو قسم کے خدا کے بندے ظاہر ہوتے ہیں۔ایک وہ جو دنیا کی ظاہری نعمتوں اور رونقوں پر فریفتہ اور اپنی زندگی کا مقصد کلیۂ ظاہری حسن کی پیروی بنا لیتے ہیں، ظاہری حسن کے پیچھے بھاگتے ہیں، ظاہری لذتوں کے پیچھے اپنا سب کچھ گنوا بیٹھتے ہیں اور اُن کا رہنا، اُن کا اٹھنا ، اُن کا بیٹھنا اور اُن کا بسنا ان کی زندگی کا ہر مقصد ان ظاہری لذتوں کا تعاقب کرنا ہوتا ہے اور ایسے وقتوں میں خدا کے کچھ ایسے بندے بھی ظاہر ہوتے ہیں جو ان چیزوں سے منہ موڑ کر کچھ کچھ تمدن اختیار کرتے ہیں جو دنیا کی نظر میں پرانے زمانے سے تعلق رکھنے والا تمدن ہوا کرتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگلے وقتوں کے وقت یہ غاروں میں بسنے والے انسانوں کے زیادہ مشابہہ ہیں بہ نسبت آج کے جدید دور سے تعلق رکھنے والے انسانوں سے۔ایسی صورت میں خدا تعالیٰ کی تقدیر کیا فیصلہ فرماتی ہے اس کا ذکر ہے جو ان آیات میں کیا گیا ہے۔وَإِنَّا لَجُعِلُوْنَ مَا عَلَيْهَا صَعِيدًا جُرُزًا ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو خدا سے منہ موڑ کر دنیا کی لذتوں کی پیروی کرتے ہیں اُن کو اور اُن کے معاشرے کو ہم ملیا میٹ کر دیں گے اور سطح زمین کو اُن سے خالی کر دیں گے اور اُن کی ہڈیوں کے سمیت اُن کو مٹادیں گے اور وہ دنیا کی سب لذتیں جنہوں نے اُن کو اپنی طرف مائل کر لیا تھا اُن کو ویرانہ بنادیں گے۔ایسے موقع پر ایک نئی تہذیب ابھرے گی اور وہ غاروں میں بسنے والوں کی تہذیب ہوگی یعنی غاروں میں بسنے والوں سے مراد یہ ہے کہ یہ خدا کی خاطر پسماندہ کہلائے وہ خدا کی خاطر پرانے وقتوں میں شمار کئے گئے۔فرماتا ہے اُس وقت پھر سب کچھ اُن کا ہوگا اور وہ خدا سے یہ دعا کریں گے کہ رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيْنُ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا اے خدا ہم تو پہلے بھی تیری رحمت کے طالب تھے اور اب بھی تیری ہی رحمت کے طالب ہیں۔ہمیں تو نے جو نیا تمدن عطا کرنا ہے وہ اپنی مرضی اور اپنی رحمت کے مطابق عطا فرما اور اپنی طرف سے ہمارے لئے ہدایت کے راستے کھول دے اور ایک ایسی تہذیب