خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 578 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 578

خطبات طاہر جلد ۸ اور اسی رحمت کے ہم محتاج ہیں۔578 خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۸۹ء یہ آیات اصحاب الکہف سے تعلق رکھتی ہیں اور تاریخی لحاظ سے اکثر قرآن کریم کے مطالعہ کرنے والے یا تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ آغاز میں عیسائیت پر ایک ایسا دور آیا تھا جب زمین کی سطح پر رہنا اُن کے لئے ناممکن ہو گیا تھا۔ایسے ایسے مظالم کا ان کو سامنا تھا کہ ان کو زمین کی سطح پر رہنے کی بجائے غاروں میں رہنا زیادہ عافیت کا موجب دکھائی دیتا تھا۔اس وقت زمین کی سطح پر بسنے والے دنیا کی رونقوں، دنیا کی لذتوں میں اپنے آپ کو فراموش کئے ہوئے تھے اور اس فراموشی میں دراصل خدا کو بھول چکے تھے۔ان حالات میں جبکہ مادہ پرستی اپنے زوروں پر تھی خدا تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے تھے جنہوں نے سطح زمین کی بجائے زیرزمین غاروں میں رہنا پسند کر لیا تھا۔یہ مضمون ہے جو تاریخی لحاظ سے اکثر تاریخ دانوں پر روشن ہے لیکن قرآن کریم کی ان آیات کا آپس میں جوڑ کیا ہے اور کیوں یہ باتیں بیان ہوئی ہیں۔ان کا ایک پہلو تمدنی بھی ہے اور تمدنی پہلو اتنا گہرا، اتنا ز بر دست اور اتنے اہم پیغامات لئے ہوئے ہے کہ آج میں اسی پہلو سے ان آیات پر روشنی ڈالوں گا۔سر دست اس بات کو بھول جائیے کہ کچھ لوگوں پر اتنے مظالم ہوئے کہ ان کو زمیر ز مین رہنا پڑا۔قرآن کریم کی یہ جو آیات ہیں ان میں کسی مظالم کا ذکر نہیں ملتا کیونکہ تاریخی طور پر ہم جانتے ہیں کہ ایسا واقعہ ہوا تھا اس لئے از خود مظالم کا مضمون ہمارے ذہن میں ابھر آتا ہے لیکن اس بات کو کچھ عرصے کے لئے بھلا کر جب ان آیات کا مطالعہ کریں تو دراصل یہ انسان کی بعض تمدنی حالتوں کا نقشہ پیش کرتی ہے اور یہ آیات مادہ پرستی کے بعض اہم ادوار پر بحث کرتی ہیں۔بسا اوقات انسانی تاریخ میں ایسا دور آتا ہے کہ سطح زمین پر ہر قسم کی لذتیں ، ہر قسم کی دنیاوی چمک انسان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے اور اس کی توجہ خالصہ دنیا طلبی میں اور دنیا کی لذتوں کی جستجو میں منہمک ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں یہ ناممکن ہے کہ وہ انسان جو دنیا کی رونقوں اور دنیا کے ظاہری حسن سے عشق لڑا بیٹھا ہو اور اُس کی محبت میں فریفتہ ہو چکا ہو وہ خدا کو یا درکھ سکے۔ایسے موقعہ پر جب سطح زمین پر سطح زمین کی رونقیں انسانی دل اور انسانی جذبات کو کلیۂ اپنی طرف مائل کر لیتی ہیں۔ایسے وقت میں ان آیات سے پتا چلتا ہے کہ خدا کے کچھ بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جو زیر زمین رہنا پسند کرتے ہیں۔اس تمدنی تفاوت پر جب آپ غور کرتے ہیں تو یہ بہت ہی خوبصورت مضمون ہماری