خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 568
خطبات طاہر جلد ۸ 568 خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۸۹ء باتیں کرتا ہو۔ محبت دونوں صورتوں میں ضروری ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں۔ خواہ ایک بہت ہی بڑا عالم جو نماز کے ایک ایک لفظ کی تہہ تک بھی پہنچ سکتا ہو اور اس کے ہر قسم کے مطالب پر اس کو عبور ہو اگر نماز پڑھے اور خدا کی محبت سے عاری ہو تو اس کو کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا لیکن یہ کہنا کہ صرف محبت کافی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی علوسه۔ ﷺ کے سکھائے ہوئے وئے طریق سے الگ رہ کر وہ محبت کافی ہو سکتی ہے یہ درست نہیں ۔ کیونکہ محبت بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہی سے ہم نے سیکھنی ہے اور نماز میں جو صلى الله صلى الله علی سہ آپ نے قرآن کریم کی آیات چنی یا مثلاً سورۃ فاتحہ یا اور قرآن کریم کے مضامین اور مطالب سے دعا ئیں لے کر نماز میں داخل فرمائیں یا جو تسبیح تحمید ہمیں نماز میں پڑھنے کی ہدایت فرمائی یہ سارے امور محبت الہی پر مبنی تھے اور محبت الہی کے مختلف پہلوؤں کی طرف متوجہ کرنے والے تھے۔ اس لئے محبت اگر ایک شخص کی انفرادی ہو اور وہ صاحب عرفان نہ ہو تو وہ محبت اس کو بہت زیادہ بلند مقام تک نہیں پہنچا سکتی ۔ محبت کی بھی تو بے شمار منازل ہیں۔ محبت بھی تو ایک لا متناہی چیز ہے۔ کیسے محبت کرنی ہے یہ مضمون ہے جس کو اگر آپ پیش نظر رکھیں تو قرآن کریم سے صاف پتا چلتا ہے کہ ویسے محبت کرنی ہے جیسے آنحضرت نے کی تھی ۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( آل عمران : ۳۲) اے محبت کے دعویدارو ! اگر تم خدا سے محبت کرنا چاہتے ہو فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله میری طرح کرو جس طرح میں کرتا ہوں تب خدا تم سے محبت کرے گا۔ یعنی محبت کا جو آخری پھل ہے وہ تمہیں مل جائے گا۔ خالی ایک طرف کی محبت کے کیا معنی ہیں ۔ اگر جس سے محبت ہے وہ منہ موڑے رکھے اور اس کا وصل نصیب نہ ہو تو یک طرفہ محبت تو صحرا میں آوازیں دینے کے مترادف ہے۔ اس لئے قرآن کریم کی آیت اتنی کامل ایسی حسین ہے کہ بارہا میں نے اس کا ذکر کیا ہے مگر میں تھکتا نہیں ۔ کیسا عمدہ کلام ہے فرمایا اے خدا کی محبت کے دعویدارو! اگر تم محبت کرنا چاہتے ہوئے تو اے محمد ! ان سے کہہ دے کہ میری طرح کرو اور اس کا کیا نتیجہ ہو گا خدا تم سے محبت کرے گا۔ کتنا عظیم الشان پھل ہے لیکن اگر آنحضرت ﷺ کی طرح محبت نہیں کریں گے تو کچھ نہ کچھ تو خدا کا پیار مل سکتا ہے لیکن اس آیت کا کوئی مومن مصداق نہیں بن سکتا۔ صلى الله اس لئے نمازوں کے اوپر مزید گہری توجہ کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں جیسا کہ میں نے