خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 552
خطبات طاہر جلد ۸ 552 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء بورکینا فاسو میں بھی ہے لیکن وہ ہیں جھوٹے لوگ۔اس نے کہا مجھے تم ملاؤ تو سہی۔تو آئیوری کوسٹ میں جب جماعت کے مرکز میں پہنچا اور اس نے ان سے سوال کئے کہ تمہارے کیا کیا عقیدے ہیں۔پہلے بتائی نہیں خواب اپنی۔جب انہوں نے بتائے کہ یہ ہیں۔یہی سوال کیا کرتا تھا وہ ہر ایک سے تا کہ کچی جماعت تک وہ پہنچ سکے۔تو انہوں نے بتایا تو اس نے کہا آمنا و صدقنا یہی تو مجھے خدا نے بتایا تھا اور اسی وقت بیعت کر لی۔اب وہ واپس جا کر اپنے علاقے میں بے حد تبلیغ کر رہا ہے اور وہاں سے اطلاعیں مل رہی ہیں کہ اس کے زیر اثر بھی خدا کے فضل کے ساتھ کثرت سے لوگ تیار ہو رہے ہیں۔تو اب یہ جو خدا نے مالی کو اپنے فضلوں کے لئے چنا ہے یہ جو دوست عمر کانتے تشریف لائے ہیں ان کا قبول احمدیت اور اس کے نتیجے میں کثرت سے لوگوں کا احمدی ہونا یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ا ان دنوں باتوں کا اکٹھا پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ اس سال کو خدا تعالی نے اپنے فضل کے ساتھ جماعت احمدیہ کی صداقت کا ایک عظیم الشان سال بنانا تھا جو بنادیا گیا ہے یہ روشنی کا مینار قائم کر دیا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ الہام ایک دفعہ پھر بڑی شان سے پورا ہوا ہے کہ: پائے محمد یاں برمنار بلند محکم تر افتاد ( تذکره صفحه: ۷۷) یعنی یہ جماعت اس لئے قائم کی گئی ہے کہ عرصہ بہ عرصہ یہ بلند ہوتی چلی جائے اور یہ روشنی کا مینار بنتی چلی جائے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا قدم اس کندھے پر اور بلند اور اونچا ہوتا چلا جائے اور یہ مینار جتنا بلند ہو اتنی آنحضرت ﷺ کی شان زیادہ بلندی زیادہ رفعت کے ساتھ تمام دنیا پر روشن ہوتی چلی جائے۔سیروہ حالات ہیں جو صرف مالی ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی بکثرت ظاہر ہور ہے ہیں۔جلسہ کی تقریر میں بھی وقت کم تھا اور میں تفصیل سے اس مضمون پر روشنی نہیں ڈال سکا لیکن انشاء اللہ بہت سے کوائف ہیں جو با قاعدہ رپورٹ میں شائع ہوں گے تو جماعت کے لئے بہت ہی از دیا دایمان کا موجب بنیں گے۔سیرالیون بھی ایک وہ ملک ہے جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے شدید مخالفت کے باوجود جو سعودی عرب کی طرف سے کی جا رہی ہے اور بے انتہا روپیہ پھیلانے کے باوجود کسی طور بھی وہ