خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 551 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 551

خطبات طاہر جلد ۸ 551 خطبه جمعه ۱۸ راگست ۱۹۸۹ء دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ آپ نے جو تیرہ ہزار کچھ سوکا اندازہ بتایا تھا وہ تو غلط ہے۔چھتر گاؤں ہیں جن کے متعلق میرا محفوظ اندازہ ہے کہ چالیس ہزار ایسے دوست ہیں جو اس وقت دھڑا دھڑ بیعت فارم بھر رہے ہیں اور وقت لگ رہا ہے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جانے میں۔اب اس بات کے اظہار کے طور پر کہ یہ واقعہ اتفاقی نہیں ہوا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک صداقت کے نشان کے طور پر ظاہر ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے وہاں ایک اور عظیم الشان نشان دکھایا۔عمر معاذ ہمارے مبلغ مالی لکھتے ہیں کہ مالی کے ایک مذہبی دوست جو بڑے سخت کٹر وہابی تھے وہ حج کی نیت سے سعودی عرب جانے کے لئے روانہ ہوئے۔رستے میں جب چاڈ ملک میں پہنچے تو انہوں نے یہ رویا دیکھی ، ان کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت مسیح وفات پاچکے ہیں“۔یہ وہ صاحب ہیں جن کو کوئی اس بات کی خبر بھی نہیں تھی کہ جماعت احمد یہ بھی دنیا میں موجود ہے اور ہمارا کیا عقیدہ ہے۔رؤیا دیکھی کہ حضرت مسیح وفات پاچکے ہیں۔جس امام مہدی نے آنا تھا وہ آچکا ہے اور اس کی آمد پر پورے سو سال گزرچکے ہیں۔یہ رویا دیکھی تو اپنے حج کے ساتھیوں کے سامنے بیان کی تو انہوں نے کہا یہ شخص پاگل ہو گیا ہے کیونکہ آج تک ایسی بات نہ ہم نے سنی نہ اس نے کبھی بات ایسی کی۔اس لئے اس کو زنجیروں سے باندھ دو اور پاگل خانے پہنچا دو۔چنانچہ اس کوز نجیروں میں جکڑ کے پہلے گاؤں بھجوایا گیا پھر ایک پاگل خانے، پھر دوسرے پاگل خانے اور پھر اس کو نائجیریا کے ایک پاگل خانے بھجوایا گیا اور ہر جگہ وہ وہی باتیں کرتا تھا میں پاگل نہیں ہوں مجھے خدا تعالیٰ نے یہ بات بتائی ہے میرے علم میں نہیں کہ وہ کون سی جماعت ہے لیکن خدا نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ ہو چکا ہے اس لئے میں اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔نائجیر یا کے ماہرین نے جب اس کا معائنہ کیا تو یہ کہہ کر واپس بھجوا دیا کہ یہ ہرگز پاگل نہیں ہے۔جو یہ سمجھتا ہے خدا نے بتایا ہے اس کو بتایا ہے ہم اس میں کیا کر سکتے ہیں۔واپس ملک میں جا کر کچھ دیر اس کو باندھ کے رکھا پھر اس کی خبر ملک کے پریزیڈنٹ کو بھی پہنچی پھر اور وہاں انکوائریاں ہوئیں یہاں تک کہ اس کو پھر یہ سمجھ کر کہ نہ یہ جھوٹا ہے، نہ یہ پاگل ہے اس کو آزاد کر دیا۔اور وہ پھر اس تلاش میں نکلا کہ خدا نے جو خبر دی ہے وہ ہیں کون لوگ اور کہاں ہیں۔وہ اس تلاش میں پھر رہا تھا اور ملک ملک پھر رہا تھا کہ جب وہ آئیوری کوسٹ پہنچا تو وہاں اس کو کسی نے کہا کہ جو سوالات تم کہہ رہے ہو اور جس قسم کی جماعت کی تم تلاش میں ہو وہ یہاں آئیوری کوسٹ میں موجود ہے۔مالی میں بھی ہے۔