خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 550
خطبات طاہر جلد ۸ 550 خطبه جمعه ۱۸ را گست ۱۹۸۹ء رو یا دکھائی ہے وہ ساری تفصیل میں نے بتائی اور اب کوئی دنیا کی طاقت اس کو ہلاکت سے بچا نہیں سکتی۔اگر تقویٰ ہوتا ان لوگوں میں تو جس شخص کی موت کی خبر دی گئی تھی اور جو پاکستان کا سب سے طاقتور، صاحب استبداد انسان تھا۔جس کو ساری قوم زور لگا چکی تھی لیکن اپنے تخت سے متزلزل نہیں کر سکی تھی۔اس کی آسمانی ہلاکت پر اس حیرت انگیز نشان پر تو ان لوگوں کو توفیق نہیں ملی کہ وہ صداقت کو قبول کریں اور ایک شخص جو بڑیں مار رہا ہے جھوٹ بول رہا ہے اس کا جھوٹ ثابت ہے بار بار وہ نہیں مرا کہ اب یہ ان کی صداقت کا اور نعوذ باللہ احمدیت کے جھوٹے ہونے کا نشان ہے۔جو دعا مباہلے میں میں نے کی تھی اس میں تو یہ تھا کہ ساری دنیا میں خدا تعالیٰ احمدیت کے او پر برکتیں نازل فرمائے اور رحمتیں نازل فرما ئیں گے اور یہ لوگ ذلیل ورسوا ہوتے چلے جائیں اور ہو رہے ہیں۔میں نے جیسا کہ واضح کیا تھا گالیاں دینا ہر گز عزت نہیں ہے۔کوئی دشمن جتنی مرضی گالیاں دیتا چلا جائے اس سے شرفاء کی عزت پر حرف نہیں آتا۔اگر غیر جانبدار لوگ اس کی عزت افزائی کرتے چلے جائیں اور اس کی عزت اور اکرام میں بڑھتے چلے جائیں تو یہ خدا کی طرف سے سچا عزت کا نشان ہوا کرتا ہے۔پس ساری دنیا میں جماعت احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے جوا کرام دیا ہے اس سال اور غیر معمولی اکرام دیا ہے وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اب اس بات کا ثبوت بن کر آسمان صداقت پر ایک سورج کی طرح چمکتا رہے گا۔یہ جماعت بچے کی جماعت ہے۔یہ جماعت خود ایک کچی جماعت ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائیدات نے نازل ہو کر ان کی سچائی کو ثابت کر دیا ہے۔میں نے آپ کے سامنے بعض واقعات رکھے تھے۔مالی کے متعلق بتایا کہ یہ وہ سال ہے جس میں یہ کہتے تھے ہم احمدیت کو دفن کر دیں گے اور احمدیت مرجائے گی اور جوابا میں نے کہا تھا کہ تم اگر زندہ رہو گے تو دیکھو گے کہ احمدیت زیادہ زندہ ہو کر ظاہر ہوگی اور جن ملکوں میں کمزور ہے ان میں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے آگے بڑھے گی۔اب مالی وہ ملک ہے جس میں جماعت احمد یہ ایک کمزور جماعت تھی۔جہاں تک میرا اندازہ ہے ایک ہزار کے لگ بھگ احمدی ہوں گے کل اور اب جب وہ صاحب تشریف لائے وہاں سے میرے سامنے اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں جلسے میں ایک بہت بڑے مسلمان راہنما ہیں جن کو سارے ملک میں اور خصوصیت سے ایک علاقے میں بہت عزت و احترام کے ساتھ