خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 548 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 548

خطبات طاہر جلد ۸ 548 خطبه جمعه ۱۸/اگست ۱۹۸۹ء نے کہا تھا۔میں نے کہا تھا اس شخص نے یہ اعلان کیا ہے کہ جماعت احمد یہ پندرہ ستمبر تک زندہ نہیں رہے گی اور جماعت احمد یہ دنیا سے نیست و نابود ہو جائے گی اور جب اس کو میں نے پکڑا اسی خطبہ میں تو اس کے بعد کچھ عرصہ کے بعد یہ اعلان کیا کہ مرزا طاہر زندہ نہیں رہے جماعت احمدیہ کو میں کیسے مار سکتا ہوں۔کم سے کم اتنا تو اپنی شکست کا اعتراف کر لیا کہ کوئی دنیا میں ایسا پیدا نہیں ہوا جو جماعت احمدیہ کو مار سکے اور اب خود اس بات کو ، تیسرا جھوٹ، الٹا کر یہ بنالیا گویا کہ میں نے یہ کہا تھا کہ یہ پندرہ ستمبر تک مرجائے گا۔تو جن کے مباہلے کی بنا جھوٹ پر ہو وہ تو جھوٹے ثابت ہو گئے اور کون سا مباہلہ باقی ہے پھر۔مباہلے بچے جھوٹے کی تمیز کے لئے آیا کرتا ہے۔جومباہلے کے بعد کھلم کھلا جھوٹ بولےاوراس کا جھوٹ پکڑا جائے اس کے اوپر تو موت آگئی اور وہ تو اس مباہلے میں ہلاک ہو گیا ہے۔اسی قسم کی ایک خبر کل پاکستان سے ملی کے حافظ آباد کے ایک علاقے میں ایک شخص نے تیاری شروع کی ہے جشن منانے کی اپنے جیتنے کی۔اس کا قصہ یہ ہے کہ حافظ آباد کے قریب ہے ایک گاؤں مانگٹ اونچا اس کے ایک احمدی نوجوان نے بغیر کسی اجازت کے بغیر کسی بات کے، بغیر اللہ تعالیٰ سے کوئی خبر پائے از خود اس سے یہ معاہدہ کر لیا، مباہلہ کیا اپنی طرف سے اور مباہلے کی شرط یہ تھی کہ اگر وہ شخص جس تاریخ کو وہ بات کر رہے ہیں ایک سال کے اندر اندر نہ مرا تو اس کا سچا ہونا ثابت ہو جائے گا۔جب مجھے یہ اطلاع ملی تو میں حیران ہوا میں نے کہا کوئی عقل کے ناخن لو یہ تم کیا بات کر رہے ہو۔اول تو یہ کہ بار بار میں سمجھا چکا ہوں مباہلہ ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہے ، نہ انفرادی طور پر یہ کوئی ایسا نظام ہے جسے ہر شخص استعمال کرتا پھرے۔اگر ہر شخص اس طرح استعمال کرے اور چیلنج دے یکا یک تمام دنیا کے جھوٹے مر جائیں پھر ایک سال کے اندر اندر اور صرف بچے باقی رہ جائیں۔اگر ایسا ہونا ہوتا تو آنحضرت یہ کے زمانے میں کیوں نہ یہ واقعہ ہو گیا جب سب سے زیادہ ضرورت تھی۔کئی شرطیں ہیں۔قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے وہ لوگ جن پر حجت تمام ہو چکی ہو، جو تمام چھان بین کر چکے ہوں اور سب تحقیق کے بعد عد جھوٹ بول رہے ہوں اور پھر وہ قوم کے راہنما ہوں اور پھر ان کو چیلنج دیا جائے اور پھر وہ اس چیلنج کو آنکھیں کھول کر قبول کریں۔تو نہ وہ کسی قوم کا راہنما، نہ ہمارا احمدی کسی قوم کا راہنما اور آپس میں اس بیہودہ شرط پر مباہلہ