خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 532
خطبات طاہر جلد ۸ 532 خطبه جمعها اراگست ۱۹۸۹ء گزرے ہوئے لمحے سے بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔پس تو حید خالص کا قیام صرف زبان سے نہیں ہو گا۔تو حید خالص کے مضمون کو باریکی سے سمجھنے کے بعد اسے روزانہ اپنے دل پر جاری کرنے سے ہوگا۔پس خدا رحمان ہے، خدا رحیم ہے، وہ مغفرت کرنے والا ہے ، وہ درگزر کرنے والا ہے اور وہ پکڑ کرنے والا بھی ہے۔بعض موقعوں پر وہ بخشش سے کام نہیں لیتا۔وہ کون سے موقعے ہیں جہاں بخشش سے کام لینا خدا کی صفات کے خلاف ہے۔وہ کون سے مواقع ہیں جہاں درگزر کرنا خدائی صفات کے مطابق ہے۔اس مضمون کو سمجھنے کے لئے آپ کو لازماً سیرت کے مضمون کو پڑھنا ہو گا۔آنحضرت ﷺ نے کن مواقع پر دینی غیرت کے نتیجے میں بخشش سے کام نہیں لیا۔کن مواقع پر آپ نے بظاہر سنگین ترین حالات ہونے کے باوجود بخشش سے کام لیا۔ان دو مواقعوں کی تفریق کیا ہے۔وہ کون سی باریک راہیں ہیں جو ایک کو دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔اس مضمون کو سمجھنا ہر انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ وہ حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کی زندگی کے آئینے میں اس مضمون کو دیکھے اور سمجھنے کی کوشش کرے۔آنحضرت ﷺ کی بخشش کا جب ہم مضمون بیان کرتے ہیں تو دل حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔ایک ہی موقع جو بار بار پیش کیا جاتا ہے وہ فتح مکہ کا موقع ہے مگر یہ ایک ہی موقع نہیں۔لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (يوسف) (۹۳) تک بہت سے مقررین کی نظر پہنچتی ہے پھر وہاں ٹھہر جاتی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ آپ کی سیرت میں مسلسل بخشش کا مضمون ایک بہتے ہوئے پانی کی طرح چلتا ہے۔ایسے پانی کی طرح جو بلندیوں سے اترائیوں کی طرف چل رہا ہو۔جو پہاڑوں سے کھائیوں کی طرف روانہ ہو۔آپ کی بخشش آپ کے بلند مقام سے کم تر لوگوں کی طرف مسلسل جاری رہی ہے لیکن بہت سے ایسے مواقع ہیں جہاں اچانک ہمیں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ایک اور شخصیت ابھرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میری بیٹی فاطمہ بھی اگر چوری کرتی تو میں اسی طرح اس کے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کرتا جس طرح اس فاطمہ کے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کر رہا ہوں جس نے چوری کی ہے۔وہاں اچانک بخشش کا مضمون بدل کے ہٹ جاتا ہے اس کی بجائے خدا تعالیٰ کی پکڑ کا مضمون ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے اور بخشش کے مضمون کی پوری طرح جگہ لے لیتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ پر یہ جب وہ ظالمانہ جھوٹا الزام لگا تو آنحضرت ﷺ نہایت درجہ حسن ظن