خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 533
خطبات طاہر جلد ۸ 533 خطبه جمعه ا ار اگست ۱۹۸۹ء رکھنے کے باوجود، نہایت درجہ حلیم ہونے کے باوجود ایک مہینہ تک اس قدر گہرے صدمہ میں مبتلا رہے کہ آپ نے ان سے عملاً قطع تعلقی کر لی اور کلام کرنا بند کر لیا۔جب آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ نے حضرت عائشہ صدیقہ کی معصومیت کی خبر دی تو اس وقت آپ مسکراتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا کہ عائشہ تم معصوم ہو گئی ہو خدا نے خبر دی ہے اس لئے آج میں تمہارے گھر دوبارہ داخل ہو رہا ہوں اور یہ قطع تعلقی آج سے ختم ہوئی۔حضرت عائشہ بھی آپ ہی کی پروردہ تھیں۔آپ ہی کی تربیت یافتہ تھیں۔آپ نے کہا کہ یا رسول اللہ ! آپ کا مجھ پر کیا احسان ہے۔جہاں تک انسانی جذبے کا تعلق ہے آپ نے مجھے معاف نہیں کیا تھا۔اس گناہ کے تصور سے ہی آپ ایسی کراہت محسوس کرتے تھے کہ اس خیال سے کہ شاید یہ سچی بات ہے آپ نے مجھ سے قطع تعلقی کر لی تھی۔میں آپ کی احسان مند نہیں میں اپنے خدا کی احسان مند ہوں جس نے میرے دل کی دردناک حالت پر نظر کرتے ہوئے خود میری معصومیت کی آپ کو اطلاع کی۔پس آنحضرت ﷺ کا جو پکڑ کا مقام ہے اور بعض موقع پر معاف نہ کرنے کا جو خلق آپ سے ظاہر ہوا ہے وہ خلق بتاتا ہے کہ آپ کی رضا کلیۂ خدا کی رضا کے تابع تھی اور امر واقعہ یہ ہے کہ وہ چیزیں جہاں خدا نے بخشش کی اجازت نہیں دی وہاں آپ بخشش کا سلوک نہیں فرماتے تھے او روہ مضامین جہاں خدا تعالیٰ کی طرف سے بخشش کی اجازت ہے وہاں آپ سے بڑھ کر کوئی بخشنے والا آپ کو دنیا میں دکھائی نہیں دے گا۔اتنے فیاض ، اتنے بے انتہا ، جو دسخا کہ ایک بحر قلزم ، ایک بحر قلزم کیا ساری دنیا کے سمندر بھی آنحضرت ﷺ کی جو دوسخا کے مضمون کو بیان نہیں کر سکتے۔کوئی سننے والا کہے گا کہ یہ مبالغہ ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ انسانی دنیا میں مثالیں سمندروں کی ہی دی جاتی ہیں اور جب ہم کہتے ہیں کہ سمندر کے پانی ختم نہ ہونے والے ہیں تو انسانی خلق پر جب اس مضمون کا اطلاق کیا جاتا ہے تو واقعہ بعض انسانوں کے خلق کا مضمون بے کنار ہوا کرتا ہے۔اس کا کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا۔آنحضرت یہ اتنے بھی تھے۔کچھ بھی اپنے پاس اپنے لئے نہیں رہنے دیا۔جو کچھ آیا وہ خدا کی راہ میں خدا کی خاطر تقسیم کر دیا لیکن ایک موقع پر آپ کے ایک نواسے نے زکوۃ کی کھجور میں سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی آنحضرت ﷺ جھپٹے اس کی طرف اور انگلی ڈال کر اس کے منہ سے وہ کھجور نکال لی۔وہاں آپ کی سخاوت نے وہ رنگ نہیں دکھایا جو تمام دنیا کی دولتیں تمام دنیا پر نچھاور