خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 526 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 526

خطبات طاہر جلد ۸ 526 خطبه جمعها اراگست ۱۹۸۹ء عقیدے کا اظہار کر سکوں۔اور بعض مجھے یہ بھی لکھتے ہیں کہ کثرت کے ساتھ ایسے لوگ پاکستان میں ہر جگہ موجود ہیں جو موجودہ مشکلات کے باعث کھل کر جماعت احمدیہ کی حمایت نہیں کر سکتے مگر ان کا دل جماعت کے ساتھ ہے اور جماعت کی سچائی پر مطمئن ہے۔یہ سارے وہ لوگ ہیں جو اپنے ماحول میں سے نسبتاً زیادہ بچے ہیں، زیادہ صاحب بصیرت ہیں کیونکہ انہوں نے جھوٹ کے غلبہ اور جھوٹے پروپیگنڈے کے غلبہ کے باوجود سچائی کو دیکھ لیا اور سچائی کی صداقت کا کم سے کم مخفی طور پر اظہار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن چونکہ نقش دوئی دل سے نہیں مٹ سکا اس لئے ہدایت سے محروم رہ گئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ نقش دوئی مٹائے بغیر کوئی ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔اسی لئے قرآن کریم نے آغا ز ہی میں تقویٰ کی یہ تعریف فرما دی کہ تقویٰ کے بغیر قرآن کریم بھی کسی کے لئے کوئی ہدایت مہیا نہیں کر سکتا۔ذلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ في (البقرہ:۳) کوئی شک نہیں اس کتاب میں کہ یہ وہی کامل اور عظیم کتا ب ہے جس کے وعدے دیئے گئے تھے جس کی امتیں انتظار کر رہی تھیں مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ متقیوں کے سوا کوئی اس ہدایت سے استفادہ نہیں کر سکتا۔اس کتاب سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔پس و متقی کون ہیں؟ وہی جن کے دل سے نقش دوئی مٹ جاتے ہیں اور ایسے لوگ صرف اسلام میں ہی نہیں باہر کی دنیا میں بھی کثرت سے ملتے ہیں بلکہ بعض ایسی تو میں میں نے دیکھی ہیں جن میں اگر چہ ابھی اسلام نہیں آیا تھا مگر ان کے دل میں توحید موجود ہے اور بہت کم نقش دوئی ان کے دلوں پر پایا جاتا ہے۔ایسی قومیں دراصل اسلام کی راہ دیکھ رہی ہیں اسلام کا نقش جمنے کی دیر ہے وہ کامل مسلمان کے طور پر دنیا میں ظاہر ہونے والے ہیں اور اس مضمون پر میں انشاء اللہ تعالیٰ بعد میں کسی وقت روشنی ڈالوں گا لیکن بہر حال یہ خیال کر لینا کہ توحید خالص اسلام کی ان معنوں میں اجارہ داری ہے کہ مسلمانوں کے سوا تو حید خالص کہیں نہیں ملتی یہ درست نہیں ہے۔اگر آپ کثرت سے مسلمان دنیا کا جائزہ لیں تو آپ کو یہ دیکھ کر ، یہ محسوس کر کے شدید دھچکا لگے گا کہ بہت سے مسلمان ممالک کی اکثر آبادیاں توحید خالص سے عاری اور محروم ہیں اور بہت سے دنیا کے بت ہیں جو ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے چلے جاتے ہیں اور حاکم کی طرف ان کی نگاہ رہتی ہے اور دولتمند کی طرف ان کی نگاہ رہتی ہے ان مفادات کی طرف نگاہ رہتی ہے جو سیاست سے