خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 525
خطبات طاہر جلد ۸ 525 جماعت احمد یہ نقش دوئی کو مٹانے والی ہو اور تو حید خالص پر قائم رہنے والی ہو۔خطبه جمعها اراگست ۱۹۸۹ء امر واقعہ یہ ہے کہ انسان جب اپنے نفس کا زیادہ گہرائی سے جائزہ لیتا ہے تو پھر بعض اور ایسے ہلکے نقش بھی دکھائی دینے لگتے ہیں جن میں دوئی کے نشان ملتے ہیں۔اب یہ جو دوسرا پہلو ہے اس کی طرف میں جماعت کو خصوصیت سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔نقش دوئی مٹانے کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ جب کھلم کھلا لا اله الا اللہ سے تعلق توڑنے پر مجبور کیا جائے تو ہر قربانی دے کر بھی اس تعلق کو قائم رکھا جائے بلکہ اس کے اور بہت سے بے شمار پہلو ہیں ان پہلوؤں میں جماعت میں یکسانیت نہیں ہے۔بعض مختلف معیار پر کھڑے ہیں بعض کوئی اور مختلف معیار پر کھڑے ہیں بعض اعلیٰ پائے کے موحد ہیں بعض نسبتا ادنیٰ درجہ کے موحد ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو بغیر شعور کے بعض جگہ ٹھوکریں کھاتے ہیں اور توحید کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔میری مراد یہ ہے کہ جب آپ روزانہ اپنے دل کا جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کے ہر اہم موڑ پر جہاں آپ نے بعض زندگی کے اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں وہاں کیا توحید خالص آپ کے فیصلے پر نگران اور حکمران ہوتی ہے یا آپ کی دل کی ایسی تمنائیں جو خدا کے سوا لبعض قوتوں سے متاثر ہوتی ہیں آپ کے فیصلوں پر حکمران ہو جایا کرتی ہیں۔یہ وہ مسئلہ ہے جس کا آپ جس قدر تفصیل سے جائزہ لیں اسی قدر یہ مضمون آپ پر مزید کھلتا چلا جائے گا اور بعض مقامات پر انسان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ شاید کوئی بھی دنیا میں موحد خالص نہیں ہے۔چھوٹے چھوٹے بت ہر انسان کے سینے میں بسے ہوئے ہیں۔چھوٹے چھوٹے خوف غیر اللہ کے انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتے چلے جاتے ہیں۔خوف بذات خود شرک نہیں لیکن وہ خوف جو خدا کے خوف سے ٹکراتا ہے اور اس ٹکرانے کے وقت خدا کے خوف کو منہدم کر دیتا ہے اور خود غالب آجاتا ہے یہ وہ خوف ہے جو تو حید خالص کے خلاف ہے بلکہ اس خوف کے غلبہ کے ساتھ انسان کی زندگی پر شرک کے دروازے کھل جاتے ہیں۔دنیا میں بہت سی تو میں ہیں جو سچائی کو پانے سے محض اس لئے محروم رہیں کہ ان کے سینے میں چھپے ہوئے شرک کے بت موجود ہیں۔بسا اوقات مجھے پاکستان سے ایسے خطوط ملتے ہیں کہ لکھنے والا لکھتا ہے کہ میں غیر احمدی ہوں۔میرے دل میں جماعت احمدیہ کی سچائی جاگزیں ہو چکی ہے لیکن میں ماحول سے ڈرتا ہوں اور مجھ میں وہ طاقت نہیں کہ میں کھل کر اپنے