خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 519 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 519

خطبات طاہر جلد ۸ 519 خطبه جمعه ۴ راگست ۱۹۸۹ء Day light come and I want to go home۔Tally کرنا دراصل کسی چیز کو قسطوں پر فروخت کرنے کو کہتے ہیں۔اگر کوئی تاجر اپنا مال تھوڑ اسا کسی کو دے دے اور کہے کہ کما کر ہفتہ وار یا ماہانہ مجھے اس کی قیمت ادا کرو تو اس کو ٹیلی کرنا کہتے ہیں اور ٹیلی کا ایک حسابی لفظ بھی ہے یہاں وہ معنی نہیں ہیں اور جب وہ خریدتا ہے تو اس وقت پیسے نہیں دیتا لیتا جب وہ کماتا ہے تو پھر لیتا ہے۔تو غالبا وہاں رواج یہ تھا کہ ویسٹ انڈیز میں کہ کیلوں کے مالک مزدوروں کو بلایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ تم سے جتنے کیلے توڑے جاتے ہیں تو ڑ لو اور پھر ان کا نکلتے وقت ٹیلی مین کو حساب دو اور جاؤ بیچو اور پھر کما کر اس کے پیسے واپس کرو۔تو یہ کام غالبا رات کو ہوتا تھا کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اوٹیلی مین ! آؤ اور میرا حساب کر لو کیونکہ رات گزر چکی ہے صبح طلوع ہورہی ہے اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔یہ احساس میرے لئے اور بہت سے احساسات کو پیدا کرنے کا موجب بن گیا۔میں نے سوچا کہ میں تو گھر جانا چاہتا ہوں میرے بہت سے اسیران راہ مولا ہیں وہ بھی گھر جانا چاہتے ہیں۔میرا سفر تو تھوڑا ہے اور ان کو مدتیں گزر گئیں وہ خدا کی راہ میں قید ہیں اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔بہت سے ایسے ہیں جو ان آسمانی ابتلاؤں میں اور زمینی مصیبتوں میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا کوئی اختیار نہیں۔تو وہ جو میرا دل کا شوق تھا کہ صبح ہو گئی آؤ واپس چلیں وہ ان کے لئے دعاؤں میں بدل گیا۔میں نے کہا اے خدا! ان کی بھی صبح کر ان کی راتیں لمبی ہوگئی ہیں کیونکہ جب تک ان کی صبح نہ آئے ہمارے لئے بھی کوئی صبح طلوع نہیں ہو سکتی۔ایک غیر مسلم مصنف نے جماعت احمدیہ کے حالات کے متعلق اور عقائد کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے اس میں اس نے یہ لکھا ہے کہ ضیاء الحق کے ظالمانہ آرڈینینس کے ذریعے جس میں اس نے علماء کے شدید ترین مطالبات میں سے اکثر قبول کر لئے ایک احمدی کی روز مرہ کی زندگی جرم بن چکی ہے۔مجھے خیال آیا کہ اس کی نظر تو صرف ظاہر پر وہاں جا کے ٹھہری ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ اس واقعہ سے دنیا بھر کے احمدیوں کی زندگی وہاں کے قانون نے جرم بنادی ہے کیونکہ وہ معصوم پاکستان میں بسنے والے جن کی زندگی وہاں کے قانون نے جرم بنادی ہے، پاکستان سے باہر بسنے والے احمدی اپنی آزادی کو جرم سمجھنے لگے ہیں۔ان کی روز مرہ کی زندگی ایک اور قسم کا جرم بن چکی ہے۔