خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 520
خطبات طاہر جلد ۸ 520 خطبه جمعه ۲۴ راگست ۱۹۸۹ء۔نہایت درجہ عذاب میں اور تکلیف میں دن گزارتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بھائیوں کے دکھ سے الگ زندگی بسر نہیں کر سکتے۔یہ کیسا واقعہ ہے کہ ایک ملک میں ظلم ہوا اور ساری دنیا کی جماعتوں میں ان کی زندگی کی طرح ان کی اپنی زندگیاں بھی جرم بن گئیں۔یہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک معجزہ ہے ، یہ بھی ایک صداقت کا عظیم الشان نشان ہے۔آج کی مادہ پرستی کے دور میں، آج کے نفسانفسی کے عالم میں کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ایک ایسی جماعت پیدا ہوسکتی ہے کہ ایک ملک کا دکھ ایک سو ہیں ممالک میں محسوس کیا جائے اور ہر ایک اپنے بھائی کے دل کا دکھ اپنے دل کا دکھ بنالے اور اس کی آزادی سے محرومی اس کی اپنی زندگی سے آزادیوں سے محرومی بن جائے۔پس اس خیال کے آتے ہوئے میرا اپنا خیال کہ میں جلدی واپس جاؤں وہ سب غائب ہو گیا اور ساری توجہ اپنے معصوم بھائیوں کی طرف منتقل ہو گئی۔پس میں آپ سے بھی یہ درخواست کرتا ہوں کہ یہ سال خاص سال ہے ابتلاؤں کا بھی خاص سال ہے اور انشاء اللہ خدا کی طرف سے جزاؤں کا بھی خاص سال بنے والا ہے۔اگر آپ صبر سے کام لیں اور خدا کی رضا پر راضی رہیں اور شکوہ زبان پر نہ لائیں اور دل میں بھی پیدا نہ ہونے دیں اس کی جزا ئیں اور اس کی برکتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔سوسال تک آگے آنے والی دنیا آپ کے صبر کے پھل کھائے گی۔ہمت سے اس پر قائم رہیں اور خدا کی رضا پر ہمیشہ نظر رکھیں اور خدا کی رضا پر نظر رکھتے ہوئے اپنے دل کے دکھوں کو خدا کی رضا کی خاطر نظر انداز کرتے چلے جائیں۔اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔سندھ سے ابھی دو تین دن پہلے ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب قاضی احمد کی شہادت کی بھی اطلاع ملی تھی۔وہ بہت ہی بزرگ نیک سیرت انسان تھے بڑے مخلص، فدائی ، منکسر المزاج اور بڑے بہادر اور سارے علاقے میں بڑا نیک اثر رکھنے والے تھے۔ان کی نماز جنازہ تو ادا ہو چکی ہے ان کو ویسے میں خطبہ میں تحریک کرتا ہوں کہ جماعت اپنی دعاؤں میں خصوصیت سے ان کو اور ان کے پسماندگان کو یادر کھے۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا:۔جلسے کے خصوصی مہمان جو یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں ان کی کثرت ہے اور انہوں نے واپس اپنے گھروں کو جانا ہو گا اس لئے آج جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نما ز جمع ہوگی۔