خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 517
خطبات طاہر جلد ۸ 517 خطبه جمعه ۴ را گست ۱۹۸۹ء اس کے سوا اور کوئی منزل راہ میں نہیں ہے۔پس میں نے جب غور کیا جماعت کی محبت میں جماعت کے متعلق اور اسے ایک معجزہ سمجھا اور میں جب اس نتیجے پر پہنچا کہ جماعت احمد یہ خود اپنی صداقت کی دلیل ہے تو میرا ذہن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذہن اور آپ کے دل کی طرف منتقل ہوا اور میں نے سوچا کہ کس گہری صداقت کے ساتھ آپ نے حضرت محمد مصطفی اللہ کے حسن عشق کو دیکھا ہے اور کس طرح اپنے دل میں اس کو محسوس کیا ہے اس کے بغیر یہ شعر ممکن نہیں تھا۔اس دورے میں جب ہم جاتے تھے تو جماعت کی بے ساختہ محبت مجھے اور ہمارے سب سفروں کو مغلوب کر دیتی تھی اور ہم نے محسوس کیا کہ خصوصیت کے ساتھ اس غموں کے دور میں جماعت احمدیہ نے ہر جگہ غیر معمولی اخلاص پیدا ہوا ہے اور قربانی کی روح پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے۔کوئی اس کی نسبت ہی نہیں رہی۔میں نے ۱۹۸۳ء میں بھی سفر کیا تھا اس وقت بھی جماعت احمدیہ کو بہت مخلص پایا کوئی شک ہی نہیں بڑی محبت کرنے والی تھی لیکن اب کے جو حالات دیکھے ہیں وہ اس سے مختلف ہیں۔اس دوران جماعت ایک جگہ کھڑی نہیں رہی بلکہ مسلسل سفر کرتی رہی ہے ساتھ ساتھ اور پیچھے نہیں رہی۔اس وقت مجھے حضرت مصلح موعود کی وہ رویا یاد آئی جب آپ نے رویا میں دیکھا تھا کہ وہ دوڑ رہے ہیں اور جماعت پیچھے رہ گئی ہے۔مجھے یہ احساس ہوا کہ یا تو میری رفتار کم ہے یا پھر جماعت کی رفتار بہت بڑھ گئی ہے اور اس دفعہ یقیناً میں خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ جماعت نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا اور میری رفتار کے ساتھ ساتھ بھاگی ہے اور قدم سے قدم ملا کے آگے بڑھی ہے اور کسی جگہ بھی مجھے یہ احساس پیدا نہیں ہوا کہ کچھ لوگ پیچھے رہ گئے ہوں۔یہ وہ معجزہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو آگے بڑھتے بڑھتے اب اپنی تکمیل کے مراحل تک پہنچ رہا ہے اور اس کے بعد یہ بات یقینی ہے کہ جماعت احمد یہ عالمی غلبہ کے لئے تیار کھڑی ہے اور ایک نیا سورج طلوع ہو رہا ہے جو سارے اس عالم کے افق پر ابھر رہا ہے۔ایک نئے قسم کا کرہ نور ہے جوا ابھر کر اس تمام عالم پر اپنی روشنی پھینکے گا اور حضرت محمد مصطفی اللہ کے نور سے اس پورے عالم کو بھر دے گا یہ یقین لے کر میں اس سفر سے لوٹا ہوں اور مجھے یقین ہے انشاء اللہ تعالیٰ دن بدن حالات تیزی کے ساتھ اس امید کی تعبیر کی طرف بڑھیں گے اور اس یقین کی تعبیر کی طرف بڑھیں گے۔