خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 516
خطبات طاہر جلد ۸ 516 خطبه جمعه ۲۴ را گست ۱۹۸۹ء رنگ اور نسل کے احساسات یوں مٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔جغرافیائی تفریقیں اور حدیں بھی غائب ہو جاتی ہیں ساری دنیا میں اگر کوئی ایک قوم ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہے۔نہ رنگ ، نہ نسل، نہ زبان ، نہ جغرافیائی حدود کوئی چیز بھی جماعت احمدیہ کے ایک حصے کی دوسرے حصے سے تفریق نہیں کرسکتی۔اور جاپان جب میں گیا تو وہاں ایک سوال کے جواب میں میں نے ان سے کہا کہ میرا تو یہ احساس ہے اور یہ احساس ذاتی مشاہدے پر مبنی ہے کہ میں ایک ملک سے نکالا گیا ہوں لیکن دیگر ایک سوا نیس ممالک میرے گھر بن گئے ہیں کیونکہ جس ملک میں جاتا ہوں صرف ایک گھر نہیں بلکہ بعض دفعہ سینکڑوں ہزاروں گھر اپنے گھر لگتے ہیں اور کبھی بھی زبان رستے میں حائل نہیں ہوئی کبھی بھی رنگ ونسل رستے میں حائل ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیئے اور یہ صرف میرا احساس نہیں ساری جماعت کا یہی احساس ہے۔یہ وہ معجزہ ہے جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس دنیا کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔یہ دنیا بٹی ہوئی ہے مختلف نفرتوں میں مختلف حدود میں اور سوفتم کی تفریقیں ہیں جو انسان کو انسان سے الگ کر رہی ہیں۔ان سب کو یکسر ملیا میٹ کر کے ان کے وجود کو مٹاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ ایک جماعت جو بنا دیا ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سب سے بڑا معجزہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے معجزوں کے سمندر کا ایک قطرہ ہے اور اسی کا فیض ہے۔پس جماعت احمدیہ کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت خود جماعت احمد یہ ہے اور اس پر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا شعر یاد آیا یہ سوچتے ہوئے اور تب میں نے محسوس کیا کہ آپ کے دل کی کیا کیفیت ہوگی جب آپ نے یہ شعر کہا تھا کہ : اگر خواهی دلیلی عاشقش باش محمد هست برہان ( در متین فارسی : ۱۴۱) صلى الله اے محبت کے خواہش مند ! اے سوچنے والے! کہ محمد رسول اللہ سے محبت کے لائق ہیں کہ نہیں اگر کوئی دلیل چاہتے ہو تو محمد مصطفیٰ کو دیکھو وہی اپنی دلیل آپ ہیں۔دیکھو اور عاشق ہو جاؤ۔