خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 515 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 515

خطبات طاہر جلد ۸ 515 خطبه جمعه ۴ را گست ۱۹۸۹ء بھی تشریف لائیں گے اور شرکت کریں گے اور ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ دعوت دی ہے کہ ان کا جو (نیشنل ) سب سے چوٹی کا ادارہ ہے جس کی سربراہ کو ملکہ کہتے ہیں، جو خاتون ہیں،Queen کہلاتی ہیں، وہ تمام پرانے طرز کا مرکزی ادارہ ہے جس کو سارے ملک کی نمائندگی حاصل ہے۔وہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ با اثر ہیں اس ادارے کی طرف سے میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ وہاں تشریف لا کر ہمیں مخاطب ہوں اور ہمیں بتائیں کہ کیوں ہم احمدی ہوں اور کیا دلائل ہیں ، کس وجہ سے۔یہ بات اس نے اس لئے کہی کہ جو باتیں میں نے ان سے کہیں تھی وہ ان کے دل پر اثر کر گئیں اور انہوں نے برملا کہا کہ آپ کے پیغام میں قوت ہے، سچائی ہے اس لئے ہمیں اس کو سوچنا پڑے گا پھر کچھ سوچنے کے بعد انہوں نے یہ مشورہ اس لئے دیا تا کہ جو ان پر اثر پڑا ہے وہ باقیوں پر بھی پڑے تو اس کے نتیجے میں پھر ساری قوم ذہنی طور پر تیار ہو سکے۔اب یہ جو دروازے نئے نئے کھلے ہیں یہ کسی انسانی ہاتھ کا کام نہیں ہے، کسی انسانی کوشش کو اتنی غیر معمولی برکت ہو نہیں سکتی اور پھر جو کوشش کی ہی نہ گئی ہو اس کو کیسے برکت مل سکتی ہے۔ہم زمیندار ہیں ہمیں پتا ہے کہ بیج ڈالتے ہیں بعض دفعہ برکت بڑی پڑتی ہے بعض دفعہ نہیں پڑتی لیکن جہاں بیج نہ پڑا ہو وہاں کوئی برکت نہیں پڑتی۔خدا کے کام عجیب ہیں، عجیب رنگ ہیں اس کی رحمتوں کے جو بیج ہم نے نہیں ڈالے وہاں بھی برکت ڈال دی اور اتنی فصلیں اگائیں کہ دل خدا کی حمد سے بھر گیا اور ایک جگہ نہیں یہ واقعہ مسلسل اس سفر میں اسی طرح ہوتا رہا، واقعات ہوتے چلے گئے اور ہر جگہ کی جماعت نے محسوس کیا کہ یہ خدا تعالیٰ کی غیر معمولی تائید کا سفر ہے۔اس سفر کے دوران بعض دردناک واقعات کی اطلاع بھی پاکستان سے ملی اور جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں دیکھیں وہاں خدا کی تقدیر پر صبر اور شکر کرنے کے لئے بھی بڑی گہری آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا اور خدا نے توفیق بھی بخشی۔جو دوسری چیز میں نے محسوس کی جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ پہلے بھی میرا ہمیشہ سے یہی خیال تھا لیکن اس سفر کے بعد تو کامل یقین دل میں اس بات کا گڑ گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سب سے بڑا معجزہ آپ کی جماعت ہے۔اس سے بڑا معجزہ کوئی دنیا کی طاقت نہیں دکھا سکتی جب تک خدا سے کسی کا گہرا تعلق نہ ہو وہ ایسی جماعت پیدا نہیں کر سکتا۔ساری دنیا میں ساری جماعت ایک ہی رنگ میں رنگین ہے اور ان سے مل کر