خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 47 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 47

خطبات طاہر جلد ۸ 47 خطبه جمعه ۲۰ / جنوری ۱۹۸۹ء کی استطاعت رکھتے ہیں، ان سب باتوں کو فراموش کرنے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن یہ طاقت نہیں رکھتے کہ اپنی ناک کے آگے دیکھ سکیں۔نہ ماضی میں دیکھ سکتے ہیں نہ مستقل میں دیکھ سکتے ہیں۔اُن باتوں میں نہیں دیکھ سکتے جن باتوں میں ان کا ذاتی مفاد نہ ہو اور اگر ذاتی مفادناک کی حد تک جا کر ٹھہر جائے گا تو پھر آگے نہیں دیکھیں گے۔اس لئے ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ہر نظر کی بیماری بعینہ انسان کی اقتصادی اور سیاسی بیماریوں سے سو فیصدی مشابہ ہو، بعینہ مشابہ یہ نہیں ہوا کرتا۔مثالیں دی جاتی ہیں بعض تھوڑی صادق آتی ہیں، بعض زیادہ صادق آتی ہیں۔تو یہ جو نظر کی کمزوری ہے اس کا خود غرضی سے تعلق ہے دراصل اور جہاں سیاست خود غرض ہو جائے وہاں اگر یہ بیماری بڑھ جائے تو اُس کے نتیجہ میں کوتاہ نظری پیدا ہوتی ہے جو ایک مخصوص قسم کی کوتاہ نظری ہے۔بعض پہلوؤں سے سیاستدان سینکڑوں سال کے بعد دیکھ سکتے ہیں، ہزاروں سال کی تاریخ سے سبق لے سکتے ہیں اس لئے بیوقوف نہیں ہیں، بیمار ہیں بیچارے۔ایک بنیادی طور پر اخلاقی کمزوری کو برداشت کر لیا گیا ہے اور خود غرضی کے غلام بننے کے نتیجے میں جو اُس کے طبعی عوارض ہیں وہ اُن کو لاحق ہو رہے ہیں۔اس لئے ان کو تجزیہ کر کے دکھانا چاہئے ،سمجھانا چاہئے کہ یہ رستہ درست نہیں ہے غلط ہے۔تم جن رستوں سے گزر کے آئے ہو وہاں یہ موڑ پہلے بھی آئے تھے ، پہلے بھی تو تم نے غلط قدم اُٹھائے تھے، پہلے بھی تم غلط نتیجے دیکھ چکے ہو۔اگر تمہاری یاد داشت چھوٹی ہے، اگر تمہاری نظر کوتاہ ہے تو ہم تمہیں بتا رہے ہیں ، ہم تمہیں دکھارہے ہیں کہ ایسے واقعات پہلے گزر چکے ہیں اور آئندہ بھی اگر تم وہ غلطیاں کرو گے جو پہلے کر چکے ہو تو ویسے ہی نتیجے دیکھو گے جو پہلے دیکھ چکے ہو اور اس قانون قدرت کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔یہ بات ہے جو سمجھانے والی ہے اور اس کے لئے جماعت کو محنت کرنی چاہئے اور ان کو یہ بھی بتادینا چاہئے کہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں اور ہر ایک کی کمزوریوں سے باخبر ہیں۔ہم جانتے ہیں تم میں سے اکثر ایسے ہیں جن کی نیتیں ٹھیک ہیں اس لئے تم اگر ہمیں آج قربان کر سکتے ہو اپنی مفاد کی خاطر تو مجبور ہو کے کر رہے ہو ہمیں یہی احساس ہے لیکن اس کے باوجود ہم جانتے ہیں کہ اس قربانی کے بعد تمہاری قربانی کا وقت بھی آنے والا ہے۔اس لئے ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں جس چھری کو تم آج ہماری گردن پر چلنے کی اجازت دو گے خدا کی قسم وہ چھری ضرور تمہاری گردن پہ چلائی جائے گی۔یہ وہ تقدیر ہے جسے تم تبدیل نہیں کر سکتے اور کبھی کسی نے تبدیل نہیں کیا لیکن ہماری گردن کی حفاظت کی خدا نے ضمانت