خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 514 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 514

خطبات طاہر جلد ۸ 514 خطبه جمعه ۴ را گست ۱۹۸۹ء گے۔پندرہ منٹ ان کو اور دیئے پھر انہوں نے کہا پندرہ منٹ اور دے دیں کیونکہ اتنے مطالبے آرہے ہیں ٹیلی فون پر کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں اور وقت دیں۔تو میں نے ان سے کہا کہ کہ اب تو بالکل مجبوری ہے دوسرے پر لیس والے انتظار کر رہے ہیں اس کے بعد ایک اور ریڈ یوٹیشن پہ جانا ہے۔وہاں سے ہم جلدی جلدی دوسرے انٹرویو کے لئے پہنچے تو وہاں سے پھر ایک تیسرے ریڈیوٹیشن پر پہنچے جو نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا ریڈیو سٹیشن ہے اور لکھوکھہا آدمی وہ ریڈیو سنتے ہیں۔وہاں جو انٹرویو ہوا وہ بھی اسی طرح۔تھوڑی دیر کے لئے لیا گیا وہ پنتالیس (۴۵) منٹ تک جاری رہا اور جو انٹرویو کی انچارج خاتون تھی۔ایک معمر خاتون ہیں جن کو مذاہب کی بڑی واقفیت ہے ،اس کی ماہر ہیں۔وہ اس کے بعد ہمارے دو پہر کے کھانے پہ بھی تشریف لائیں اور کچھ مزاحیہ رنگ میں کچھ اپنے Approval کے اظہار کے رنگ میں یہ کہا کہ میں نے تو فیصلہ کیا ہے کہ وہ سارا ۴۵ منٹ کا انٹرویو میں براڈ کاسٹ کروں گی چاہے مجھے Sank ہی کر دیں مطلب یہ ہے کہ مجھے نکال ہی دیں۔یہ تو مطلب نہیں تھا کہ نکال دیں گے کہ اس کا ایک اظہار تھا کہ مجھے بڑا پسند آیا ہے اور میں اس کو ضرور شائع کروں گی۔پھر جب ہم کھانے پہ گئے جہاں دعوت دی ہوئی تھی دوستوں کو تعجب ہوا کہ ایک نیوزی لینڈ کے منسٹر جو وہاں کے بہت ہی ہر دلعزیز منسٹر ہیں وہ اسی دعوت کے اوپر تشریف لے آئے جو انہوں نے رسمی طور پر بھیجی تھی اور ان کو پتا ہی نہیں تھا کہ کس کس کو بھیج رہے ہیں اور بہت ہی قابل آدمی ، بہت ہی جلدی انہوں نے جماعت کے حالات سمجھ کر اس میں گہری دلچسپی لینی شروع کی اور کھانے سے اٹھنے سے پہلے مجھ سے انہوں نے کہا کہ میں انگلستان آؤں گا تو آپ کے پاس ضرور آؤں گا اور دیگر مضامین کے متعلق بڑی دلچسپی کے سوالات شروع کر دئے۔وہاں مجھے مزید محسوس ہوا کہ اگر میں ان صاحب کو جو تشریف لائے تھے ٹپ دیتا تو مجھے شرمندگی اٹھانی پڑتی کیونکہ وہ میرے بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے یہ منسٹر صاحب دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ان کی جب مجھ پر نظر پڑی تو ایک دم احترام سے اٹھ کر دونوں ہاتھوں سے ان سے مصافحہ کیا اور کہا کہ آپ کو تو یاد نہ ہو گا لیکن آپ میرے پروفیسر رہے ہیں اور میرے دل میں آپ کا بڑا احترام ہے۔چنانچہ اس معیار کے وہ دوست تھے۔اب انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ انشاء اللہ وہ جلسہ پر