خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 498 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 498

خطبات طاہر جلد ۸ 498 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء پہلے سے بیسیوں گنا زیادہ تیز رفتار کے ساتھ آگے نہیں بڑھ رہی۔اس لئے جماعت کی تقدیر تو آسمان پر لکھی ہوئی ہے۔تمہارے ذلیل اور رسوا ہا تھ آسمان پر لکھی ہوئی تقدیر کو ٹا نہیں سکتے۔تمہاری رسوائی کی تقدیر اس زمین پر بھی لکھی جائے گی اور اگر تم اپنے ظلم اور سفاکی سے باز نہ آئے تو تمہیں خدا کی تقدیر عبرت کا نشان بنادے گی اور تم ماضی کا حصہ بن جاؤ گے، مستقبل میں آگے بڑھنے والی قوموں میں شمار نہیں کئے جاؤ گے۔ایک بات میں بیان کرنی بھول گیا تھا وہ جو تین احمدی شہید ہوئے ہیں مکرم نذیر احمد صاحب ساقی، مکرم محمد رفیق صاحب ولد مولوی خان محمد صاحب اور عزیزہ نبیلہ بنت مکرم مشتاق احمد صاحب ان کی نماز جنازہ غائب ابھی مسجد میں عصر کی نماز کے معاً بعد ہوگی اور اسی طرح حاجی ڈینیل مورا یوسف صاحب جو سباملائیشیا سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی یہاں آنے کے بعد میری ملاقات سے پہلے ہی اچانک تقدیر الہی کے مطابق وفات پاگئے۔اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے ان کی نماز جنازہ غائب بھی شہداء کے ساتھ ہی پڑھوں گا۔علاوہ ازیں کچھ اور نام بھی ہیں جو درخواستیں آئیں ہوئی تھیں بعض صدر انجمن احمد یہ نے سفارش کر کے بھیجی ہیں ان کے نام میں پڑھ دیتا ہوں ان کی بھی نماز جنازہ غائب ہوگی۔مکرمہ اہلیہ صاحبہ میٹھی احسان الحق صاحب لاہور مکرم حکیم عبد العزیز صاحب ساکن چک چٹھہ ضلع گوجرانوالہ مکرمہ اہلیہ صاحب فضل الرحمان صاحب بسمل ربوه اور مکرم چوہدری احمد جان صاحب سابق امیر جماعت ضلع راولپنڈی۔