خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 497
خطبات طاہر جلد ۸ جائے گی۔497 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء اس لئے میرے نزدیک تو یقیناً تمام حکومت ذمہ دار اور جوابدہ ہے اور آئندہ وقت آپ کو بتائے گا اور خدا کی تقدیر آپ کو بتائے گی کہ کس حد تک خدا کے نزدیک کون جوابدہ تھا اور کون سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔جہاں تک جماعت احمدیہ پاکستان کو نصیحت کرنے کا تعلق ہے میری نصیحت یہی ہے کہ صبر سے کام لیتے چلے جائیں، دعائیں کرتے رہیں، اللہ پر تو کل رکھیں وہ بھی آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔اس نے کبھی صبر کرنے والوں کا ساتھ نہیں چھوڑا۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اگر دشمن حکومت کی شہ پر یا کسی اور برتے پر آپ کے گھروں پر حملہ کرتا ہے آپ کے بچوں اور عورتوں کی جانوں سے سے کھیلنے کی کوشش کرتا ہے تو آپ کو مکمل دفاع کی اجازت ہے اور آپ دیکھیں گے کہ کمزور ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا اور آپ کی حفاظت کے سامان پیدا فرمائے گا اور اس راہ میں اگر آپ کو قربانیاں دینی پڑیں گی تو ہر قربانی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو عظیم الشان فتوحات عطا فرمائے گا اور اس دنیا میں بھی اجر عطا کرے گا اور دوسری دنیا میں بھی اجر عطا کرے گا۔احمدی شہداء کا خون ضائع ہونے والا نہیں ہے۔اس کے ایک ایک قطرے کا ظالموں سے حساب لیا جائے گا اور اس کا ایک ایک قطرہ جماعت احمدیہ کے لئے نئی بہاریں لے کر آئے گا اور نئے چمن کھلائے گا اور نئی بستیوں کی آبیاری کرے گا اور تمام دنیا میں جماعت احمدیہ کے نشو و نما کے لئے یہ قطرہ باران رحمت کے قطروں سے بڑھ کر ثابت ہوگا۔اس شہادتوں کا جواب ہوئی ہیں اور ان واقعات کا مجھے کوئی شبہ نہیں کہ حضرت صاحبزادہ عبد الطیف صاحب شہید کی شہادت سے ایک گہرا تعلق ہے اور بہت سے امور اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ واقعہ اتفاقی نہیں ہے۔اس لئے افغانستان کے سوسال جس عذاب میں گزرے ہیں اس شہادت کے بعد اس سے پاکستان کو سبق لینا چاہئے۔اگر پاکستان نے اس بات سے سبق نہ لیا تو جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے اس کی ترقی کو کوئی دنیا کی طاقت روک نہیں سکتی۔جب سے پاکستان نے مخالفت شروع کی ہوئی ہے جماعت اگر چل رہی تھی تو تیزی سے دوڑ رہی ہے ، اگر دوڑ رہی تھی تو اڑتی چلی جارہی ہے۔کوئی دنیا کا ایسا ملک نہیں جہاں جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے