خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 496

خطبات طاہر جلد ۸ 496 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء کرے۔پولیس ہٹ جائے اور پھر دیکھے کے جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کس شان کے ساتھ اپنا دفاع کرتی ہے اور کس شان کے ساتھ اپنے شوق شہادت کو پورا کرتی ہے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ مولوی کہیں کسی میدان میں آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔جب بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے دنیا کو پاکستان کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ کس طرح حکومت براہ راست مظالم میں ملوث ہے ہمیشہ حکومت یہ بہانہ بناتی ہے کہ ہمارے مولوی بڑے خطرناک ہیں ہم کوشش کر رہے ہیں ان کو ٹھنڈا کرنے کی مگر وہ ہمارے قابو نہیں آتے اس لئے ہمیں وقت دیں ہم کچھ نہ کچھ ٹھیک کریں گے۔یہ سب جھوٹ ہے، سب بہانے ہیں ان میں ایک ذرہ بھی حقیقت نہیں ہے۔مولوی کی حیثیت کیا ہے وہاں۔ایک تھانے دارسارے ضلع کے مولویوں کو لگا میں دینے کے لئے کافی ہے۔ایک ڈپٹی کمشنر اگر یہ فیصلہ کر لے کہ کسی مولوی کو خباثت کی اجازت نہیں ہوگی تو مجال نہیں کسی مولوی کی کہ وہ زبان کھولے۔اس کے برعکس دن رات مولویوں کو کھلے جلسوں میں احمدیوں کے قتل کے فتوے دینے کی کھلی چھٹی ہے۔دن رات بکواس کرنے کی اجازت ہے۔جب ڈپٹی کمشنر یا دوسری انتظامیہ کو توجہ دلائی جاتی ہے تو وہ بات سننے کے باوجود ایک ذرہ بھی کارروائی نہیں کرتے۔پس جس ملک میں ملاں کو یہ چھٹی ہو کہ دن رات اس ملک کے شہریوں کے حقوق کے خلاف عوام الناس میں اشتعال پیدا کرتا رہے اور گند بکتا رہے اور گالیاں دیتار ہے اور اکساتا رہے اور یہاں تک کہے کہ اگر تم کسی احمدی کو قتل کرو گے، اس کے گھروں کو آگ لگاؤ گے، احمدی کی عزت لوٹو صلى الله گے تو تم سیدھا جنت میں جاؤ گے مرنے کے بعد اور آنحضرت ﷺ نعوذ بالله من ذالك اس خبیثانہ کاروائی کو سراہتے ہوئے تمہارا استقبال کریں گے۔جہاں ایسی جہالت اور ایسی خباثت ہورہی ہو اور حکومت ٹس سے مس نہ ہو وہاں حکومت کا یہ عذر کہ مولوی جب حملہ کر دیتے ہیں اشتعال ہو جاتا ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے بالکل جھوٹ ہے اگر حکومت چاہے تو ایک دن میں ان کو دبا سکتی ہے۔ان کا نام ونشان باقی نہیں رہ سکتا اس ملک میں جہاں حکومت یہ فیصلہ کرے کہ ان کو ملک کے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی