خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 45
خطبات طاہر جلد ۸ 45 خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ء سیاست کو تباہ کرنے میں سب سے بڑا بلکہ شاید ایک ہی ہاتھ ہے اور وہ مولوی کا ہاتھ ہے۔جن ملکوں میں ملائیت کا عذاب نازل نہیں ہوا وہاں سیاستیں آزاد ہیں اور ملائیت سے مراد میری صرف مسلمانوں میں جو خاص قسم کے علماء ہیں وہ نہیں ہیں بلکہ ملائیت سے مراد مذہبی جنون کا غلبہ ہے جس حیثیت سے میں ملائیت کی بات کر رہا ہوں۔یہ ملائیت خواہ ہندو ازم میں نظر آئے ، خواہ بُدھ ازم میں نظر آئے ، خواہ عیسائیت میں نظر آئے ، خواہ یہودیت میں نظر آئے جہاں بھی جب بھی ملائیت سیاست میں داخل ہوئی ہے اور سیاسی مزاج پر اُس نے قبضہ کیا ہے وہاں ہمیشہ سیاست کو اس نے ہلاک کر کے رکھ دیا ہے اور پھر سیاست اس زہر کے بعد زندہ نہیں بچ سکی۔پاکستان میں بارہا یہ تجربہ ہو چکا ہے۔کہتے یہ ہیں کہ چھوٹی سی بات ہے تم مان جاؤ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ اگر ایک ملک کے کسی چھوٹے سے طبقہ پر قانون کے طور پر کوئی سیاسی جماعت ظلم کرنے پر آمادہ ہو جائے تو یہ رستہ کھل جاتا ہے جو پھر کبھی بند نہیں ہو سکتا۔جس اصول کے ذریعے جس اصول کی قربانی کے ذریعے ملائیت کو سیاست پر کسی ایک جگہ غلبہ ہوتا ہے وہ پھر وہاں نہیں ٹھہرا کرتا وہ آگے اپنی جگہ بڑھانا شروع کرتا ہے اور چونکہ ایک دفعہ رستہ کھل جاتا ہے پھر اُس رستے کو بند کرنا سیاستدانوں کے لئے آسان نہیں ہوا کرتا۔اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے لیکن جماعت احمد یہ پاکستان کی تاریخ سے واقف ہے ، ہندوستان کی تاریخ سے بھی واقف ہے یعنی جماعت کے جتنے بھی دانشور ہیں، تعلیم یافتہ طبقہ ہے اُن کے لئے مشکل نہیں کہ وہ اس کی مثالیں تلاش کریں اور اپنے روز مرہ کی گفتگو میں جن سے بھی گفتگو ہو اُن کو سمجھاتے وقت وہ مثالیں اُن کے سامنے پیش کریں۔اُن کو بتا ئیں کہ کس طرح غلطی کی جاتی ہے۔ایک دفعہ جب ملائیت کو سیاست میں دخل دینے کی اجازت دے دی جائے تو پھر وہ وہاں نہیں رکا کرتی ، آگے بڑھتی ہے اور یہی وہ سلسلہ تھا جو ایک چھوٹے سے نقطے سے آغاز ہوا اور پھر آخر شرعی عدالتوں، شرعی کورٹس اور پھر شریعت کے تابع تمام سیاست کا قلع قمع کرنے پر منتج ہوا۔آٹھویں ترمیم جس کو آپ کہتے ہیں اُس میں جماعت احمدیہ کے اوپر مظالم کی بھی ایک شق ہے لیکن دراصل یہ وہ شق ہے جس سے ساری سیاست کی بربادی کا آغاز ہوا تھا۔۱۹۷۴ء کی ترمیم کی بات نہیں میں کر رہا۔۱۹۷۳ء کے آئین میں یہ شق رکھ دی گئی تھی کہ کوئی احمدی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس نہیں بن سکتا اور پاکستان کا صدر نہیں بن سکتا۔الفاظ یہ تھے یا کچھ مختلف تھے لیکن مفہوم اس کا یہی تھا۔چنانچہ