خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد ۸ 44 خطبه جمعه ۲۰/جنوری ۱۹۸۹ء رکھتے ہیں اُن کو حقیقت بنا کر دکھاتا ہے اور وہ لوگ جو با اصول سیاستدان ہیں لیکن کمزور اُن کے دلوں پر بار بار حملے کرتا ہے اُن کو ڈراتا ہے، دھمکاتا ہے، اُن کے حوصلے پست کرتا ہے کہ خبر داراب اگر تم نے کسی اصول کی خاطر اس جماعت کا ساتھ دیا تو تم دیکھنا کہ تم صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جاؤ گے،صفحہ سیاست سے مٹا دیئے جاؤ گے۔حالانکہ وہ بھول جاتا ہے کہ ہمیشہ جب بھی واقعہ ہوا ہے ہمارے سیاسی اُفق پر اس سے برعکس واقعہ ہوا ہے۔صفحہ سیاست سے وہ مٹائے گئے ہیں اور بار بارمٹائے گئے ہیں جنہوں نے اصولوں کو مٹنے دیا ہے، جنہوں نے اصولوں کی خاطر اپنے وجود کو مٹانے کا فیصلہ کیا ہے وہ کبھی نہیں مٹائے گئے اور ہمیشہ کے لئے صفحہ ہستی پہ اُن کے نام ثبت ہو چکے ہیں ایک ملک میں کبھی یہ واقعہ نہیں ہوا، دو ملکوں میں نہیں ہوا ہمیشہ ساری دنیا میں ہمیشہ ہمیش سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔اس لئے پاکستان میں جو موجودہ حالات ہمیں دکھائی دے رہے ہیں اُن میں بدنصیبی ، حوصلہ رکھنے والے باشعور بالغ نظر سیاستدانوں کے فقدان کی بدنصیبی ہے لیکن جہاں تک انسانی کوشش کا تعلق ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کو تنبیہ کرتے چلے جائیں، ہم ان کو خبر دار کریں اور ان کو ہوشیار کریں ، ان کو سمجھائیں اور ان کو دکھا ئیں کہ جن راہوں کی تم پیروی کرتے ہوئے دکھائی دینے لگے ہو وہ ہلاکت کی راہیں ہیں۔اُس کے بعد ہم پر پھر وہی حکم اطلاق پاتا ہے جو ہمارے آقا پر اطلاق پایا تھا اِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرَ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَّيْطِرِ (الغاشیہ: ۲۲-۲۳) اگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تیری حیثیت صرف نصیحت کرنے والے کی ہے تو اُن پر داروغہ نہیں تو ہم حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاک پاکے خاک پا ہم بھلا کہاں یہ حیثیت رکھتے ہیں کہ اپنے آپ کو داروغے بنا بیٹھیں اور مذکر کی حیثیت سے باہر چھلانگ لگائیں۔لیکن مذکر کی حیثیت بھی بڑی مشکل حیثیت ہے۔داروغے سے زیادہ مشکل حیثیت ہے، بڑے صبر کے تقاضے ہیں اس حیثیت میں، بڑے مراحل ہیں، جن پر ثبات قدم اختیار کرنا بڑا مشکل کام ہوا کرتا ہے لیکن بہر حال ہمارے مقدر میں یہی ایک رستہ لکھا ہوا ہے اسی رستے پر ہم نے چلنا ہے اور ضرور چلنا ہے۔ہر مشکل، ہر مصیبت کو برداشت کر کے اس پر چلنا ہے اس لئے جماعت کا فرض ہے کہ قوم کو متنبہ کرے اور سمجھائے اور آج کے سیاستدان کو خواہ وہ حکومت کی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو یا حکومت سے باہر کی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو خوب اچھی طرح کھول کر دکھائے کہ پاکستان کی