خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 493
خطبات طاہر جلد ۸ 493 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء ساری باتیں خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں مگر تمہارے علم میں نہیں ہیں۔جہاں تک حکومت کے ملوث ہونے کا تعلق ہے اس میں تو ایک ذرہ بھی شک نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کون سی حکومت ملوث ہے مرکزی حکومت یا پنجاب کی حکومت ، دونوں کے ملوث ہونے کے امکانات کو ہم بعید از قیاس قرار نہیں دے سکتے۔دونوں امکانات معقول اور موجود ہیں۔جہاں تک حکومتوں کی پارٹیوں کا تعلق ہے یہ دونوں اس سے پہلے جماعت احمدیہ سے اپنے اپنے وقت میں مظالم کر چکی ہیں۔اس لئے جو بھی ان میں سے مظالم دہرائے گاوہ قرآن کریم کی اس آیت کے نیچے آئے گا کہ اگر تم باز نہ آئے اور اپنے ظلم کو ہرایا تو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ کس طرح تمہیں بھی دہرا آگ کا عذاب دے۔ایک پارٹی جو پنجاب پر مسلط ہے وہ مسلم لیگ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ سب سے پہلے منظم طور پر حکومتی سطح پر اگر کسی سیاسی پارٹی نے جماعت احمدیہ پر مظالم ڈھائے ہیں تو وہ پنجاب کی مسلم لیگ کی حکومت تھی یعنی دولتانہ کی سربراہی میں ۱۹۵۳ء میں جو نہایت ہی ہولناک Anti Ahmadiyya agitation ہوئی یعنی جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات ہوئے ان کی کلیپڈ مکمل ذمہ داری پنجاب کی مسلم لیگ کی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور وہ فیصلہ میرا یا آپ کا فیصلہ نہیں بلکہ منیر انکوائری رپورٹ جو پاکستان کے چیف جسٹس اور ایک اور سپریم کورٹ کے جسٹس نے مل کر انکوائری کی تھی اور بعد میں رپورٹ شائع کی ان کی اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ذمہ داری حقیقت میں پنجاب مسلم لیگ کی حکومت پر عائد ہوتی ہے جس کے سر براہ دولتانہ تھے۔جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے ۱۹۷۴ء کے جو فسادات ہوئے اس کے متعلق ساری دنیا کو معلوم ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اس میں ملوث تھی اور پیپلز پارٹی کی حکومت کی شہ پر وہ فسادات ہوئے اور اس لئے یہ دونوں پارٹیاں جو امکانا ذمہ دار ہوسکتی ہیں پہلے بھی ذمہ دار ہو چکی ہیں۔پہلے بھی جماعت احمدیہ کے خلاف مظالم میں یقینی طور پر ملوث ہوچکی ہیں۔پس قرآن کریم کی اس آیت کا اطلاق حیرت انگیز طور پر ان حالات پر ہوتا ہے۔آگ کے عذاب کا دہرایا جانا اور حکومتوں کی سطح پر مخالفت کا منتظم ہونا اور منصوبے بنائے جانا اور ایسی حکومتوں کا اس وقت صوبے میں یا مرکز میں مسلط ہونا جو اس سے پہلے یقینی طور پر جماعت احمدیہ کے خلاف