خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 485
خطبات طاہر جلد ۸ 485 خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۹ء سکندر میں احمدیوں کی عظیم قربانیوں کا ذکر تین شہادتیں ہوئیں اور سو سے زائد گھر جلائے گئے (خطبہ جمعہ فرموده ۲۱ / جولائی ۱۹۸۹ء بمقام بیت الذکر طہ سنگا پور ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی :۔وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوج فى وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ وَشَاهِدِقَ مَشْهُودٍن قُتِلَ اَصْحَبُ الْأَخْدُودِةُ النَّارِ ذَاتِ الْوَقَوْدِن إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودُةٌ وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودَة وَمَا نَقَمُوْا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (البروج :٣ -١٠) امسال جو جماعت احمدیہ کی انگلی صدی کا پہلا سال ہے اور قربانیوں کی عید جس دن آئی وہ وہی دن ہے جس دن اس صدی کی بلکہ اس دور کی سب سے عظیم شہادت واقع ہوئی یعنی حضرت صاحبزادہ عبدالطیف صاحب کو ۴ جولائی ۱۹۰۳ء کو شہید کیا گیا اس کے بعد یہ ہماری اگلی صدی کی پہلی قربانیوں کی عید کے دن بعینہ وہی تاریخ تھی اس وجہ سے میں نے عید کے خطبہ کا موضوع یہی شہادت بنایا اور میرے دل پر اس بات کا گہرا اثر تھا اور میں سمجھتا تھا کہ یقیناً اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی