خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 43
خطبات طاہر جلد ۸ 43 خطبہ جمعہ۲۰/جنوری ۱۹۸۹ء تکلیف پہنچے گی کہ میں نے بہت سے دنیا کے سیاستدانوں سے ملاقاتیں کی ہیں ، بہت سے لیڈروں سے میں واقف ہوں لیکن آج تک میں نے کبھی دنیا میں اتنا کمزور سیاستدان نہیں دیکھا جتنے آپ ہیں۔اُن کا تو یوں لگتا تھا جیسے اشتعال سے اپنے آپ پر قابو نہیں رہے گا۔ایک دم اس قسم کی گہری چوٹ کسی نازک جگہ پر لگائی جائے اس طرح اُن کا رد عمل ہوا لیکن اُن میں بہر حال بہت سی خوبیاں تھیں یونہی تو کوئی قوم کا راہنما نہیں بن جایا کرتا۔اُنہوں نے حوصلے سے اپنے جذبات کو برداشت کیا، اُن پر قابو پایا اور مجھے کہا کہ یہ عجیب بات آپ کر رہے ہیں۔ساری قوم میرے پیچھے ہے، سارا مشرقی پاکستان میری آواز پر لبیک کہہ رہا ہے اور آپ کہتے ہیں میں نے اپنی ساری زندگی میں اتنا کمزور سیاسی راہنما کبھی نہیں دیکھا۔میں نے کہا اسی لئے میں کہہ رہا ہوں کہ آپ کو قوم نے آگے لگایا ہوا ہے آپ نے قوم کو پیچھے نہیں لگایا ہوا اور آپ ایک انچ بھی رستہ بدلنا چاہیں تو قوم آپ کو دھتکار کر ایک طرف پھینک دے گی اور آپ میں طاقت نہیں ہے رستہ بدلنے کی اس لئے میں جو آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں بالکل وقت ضائع کر رہا ہوں۔آج آپ اگر ادنی سی آواز بھی بلند کریں کہ جس طرف میں آپ کو پہلے لے کر جارہا تھا وہ راہ غلط ہے اور ہمیں اس راہ کو تبدیل کرنا چاہئے تو آپ کو قوم ہلاک کر دے گی۔اس لئے آپ طاقتور راہنما کیسے ہو گئے ؟ پس یہ فرق ہوا کرتا ہے سیاستدان آگے ہی ہوا کرتا ہے لیکن دیکھنا یہ پڑتا ہے کہ قوم نے اُس کو آگے لگا رکھا ہے یا وہ قوم کو پیچھے پیچھے لے کر چل رہا ہے۔تو قوم کے آگے لگنے والے سیاستدان تو بکثرت ہمیں نظر آ رہے ہیں لیکن قوم کو پیچھے لگانے والے سیاستدان وہ جو اصولوں کے پابند سیاستدان ہوا کرتے ہیں، عظیم حوصلوں اور عظمتوں کے مالک ہوتے ہیں اُن کا فقدان ہے اور یہی بحران ہے سیاست کا جس نے پاکستان کی سیاست کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔تو ایسے طبقہ سے یہ توقع رکھنا جن کی تربیت یہ نہ ہو، جو نبضوں پر ہاتھ رکھتے ہوں کہ اگر ڈوب رہی ہیں تو ہم ساتھ ڈوب جائیں گے اس پر آمادہ ہوں۔نبضوں کو بدلنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں اُن میں یہ استطاعت نہ ہو کہ ڈوبتی نبضوں کا ساتھ نہیں دینا اور اُبھرتی نبضوں کا ساتھ دینا ہے اور دیتی ہوؤں کو ابھارنا ہے وہ سیاستدان راہنما بننے کے کیسے اہل ہو سکتے ہیں لیکن ایسے بھی ہیں اور ایک معمولی سا طبقہ ایسا بھی ہے جو احراری مزاج ہے اور پیپلز پارٹی میں داخل ہے۔وہ ایسے موقع پر باہر کی آواز کو اندر پہنچاتا ہے اور بڑھا چڑھا کر پہنچاتا ہے اور اُن خطرات کو جو محض گیدڑ بھبکیوں کی حیثیت