خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 468
خطبات طاہر جلد ۸ 468 خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۸۹ء اب یہ کوشش کرے کہ خود اس مسجد کو بھرے اور پھر یہ دعا کرے اس مسجد میں کہ اللہ اس مسجد کو اور متقی نمازی عطا کرے۔پھر معمولی کوشش بھی وہ کریں گے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کثرت کے ساتھ ان کے پیغام میں برکت ڈالے گا اور یہ مسجد بھی چھوٹی ہو جائے گی۔اب مسجد کے چھوٹے ہونے کی دعا بظا ہر بڑی عجیب لگتی ہے کہ ہم خود دعا کریں کہ اے خدا! اس مسجد کو چھوٹا کر دے لیکن میں نے پہلے بھی کئی دفعہ اس مضمون پر روشنی ڈالی ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ وہ مائیں جو اپنے بچوں سے پیار کرتی ہیں وہ یہ دعا نہیں کیا کرتیں کہ ان کے کپڑے کبھی بھی چھوٹے نہ ہوں۔کپڑے چھوٹے نہ ہوں تو ان کے سینے میں غم کی آگ لگ جاتی ہے وہ فکر میں مبتلا ہو جاتی ہیں ، گھلنے لگ جاتی ہیں کہ ہمارے بچے کے وہی کپڑے ہیں جو دو سال پہلے پہن رہا تھا تو یہی ہمارا رجحان خدا کے گھروں کی طرف ہونا چاہئے۔جب وہ چھوٹا ہوگا تو اللہ تعالیٰ پھر وسیع مساجد بھی عطا کر دے گا۔پس مساجد بنائیں اور بڑی بنائیں۔کوشش کریں کے وہ جلد سے جلد چھوٹی ہو جائیں۔پھر خدا سے دعا کریں کے اے خدا اب اور مسجدمیں دے ہمارے کپڑے اور بڑے کر دے تا کہ ہم ان میں پورے آسکیں۔یہ وہ مضمون ہے اس کو سمجھ کر دعائیں کرتے ہوئے، بجز کے ساتھ آپ ان را ہوں پر آگے بڑھیں تو ہر نئے سال خدا کی نئی شان آپ دیکھتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ایک آخری بات جو اپیل کے متعلق میں کہنی چاہتا تھا وہ مسجد واشنگٹن کے لئے اپیل کرنی ہے۔مسجد واشنگٹن مرکزی ہونے کی حیثیت سے سب سے زیادہ امریکہ کی جماعت کے لئے لائق توجہ ہونی چاہئے۔اب تک جو صورتحال ہے بعض دوسری جگہ مثلاً پورٹ لینڈ میں ، لاس اینجلس میں مساجد بڑی اچھی اچھی بن چکی ہیں لیکن ابھی تک واشنگٹن میں کوئی مسجد نہیں بنی۔پھر بہت سے مراکز قائم کئے گئے ہیں گھر خرید کر اور زمینیں خرید کر جن میں عمارتیں موجود تھیں اور ان کو مساجد میں تبدیل کیا گیا ہے۔اس دفعہ جب میں امریکہ میں داخل ہوا تھا تو Rochester میں ایک ایسا ہی گھر تھا جو خریدا گیا اور بہت ہی اچھی جگہ پر خوبصورت گھر ہے جس کے ایک حصے کو مستورات کے لئے مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے ایک حصے کو مردوں کے لئے مسجد میں تبدیلی کیا گیا ہے۔اس قسم کی بہت سی مساجد امریکہ میں موجود ہے لیکن واشنگٹن میں جو پہلا مشن تھا ( اور بہت پرانی بات ہے ) جب وہ مشن