خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 42

خطبات طاہر جلد ۸ 42 خطبہ جمعہ ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ء جن کو جماعت سے ہمدردی ہے جو با اصول تو ہیں لیکن اپنے اصولوں کی حفاظت کی طاقت نہیں رکھتے۔جو شریف تو ہیں لیکن اُن کی شرافت کی زبان میں جرات کا فقدان ہے۔وہ بے چین ہیں وہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے لیکن اُن کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ایک طبقہ سیاستدانوں کا وہ ہے جو ذاتی طور پر شریف النفس ہے لیکن جماعت سے ویسے کوئی ہمدردی نہیں رکھتا اور اصولوں پر قائم رہنے کا بھی کوئی خاص تجر بہ یا سلیقہ ان کو نہیں ہے۔ساری عمر ایسی سیاست کی پیروی کی ہے جو رستوں کے مطابق رخ بدلا کرتی ہے اپنی مرضی کے مطابق رستے نہیں بنایا کرتی اور یہی بڑا فرق ہے ہمارے ملک کی سیاست اور مغربی سیاست میں۔یہاں پہلے منازل معین کی جاتی ہیں اور اطراف کی تعیین کی جاتی ہے پھر راہ تجویز کی جاتی ہے جو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ آرام کے ساتھ قوم کو منزل تک پہنچا دے۔ہمارے ملک میں گھسے پیٹے رستوں کی پیروی کی جاتی ہے خواہ وہ منزل سے بھی ہٹا دیں۔اس لئے یہ بڑا فرق ہے ان کو عادت ہے قوم کے خیالات کو جانچ کر خواہ وہ صحیح ہوں خواہ وہ غلط ہوں اُن کے پیچھے چلنے کی تا کہ قوم کو یہ احساس نہ ہو کہ ہم اُن کے راہنما ہیں جو اُن کے خیالات کو بدلنے پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔چنانچہ بظاہر یہ لوگ را ہنما ہوتے ہیں لیکن عملاً عوام الناس ان کے راہنما ہوتے ہیں۔اب یہ جو چیز ہے اس میں ایک فرق دکھانا ضروری ہے۔دنیا میں ہر جگہ عوام کے خیالات اور خواہشات کا احترام کیا جاتا ہے اور کوئی بھی دنیا کی سیاست نہیں ہے جو عوام کی نبضوں پر انگلیاں رکھے بغیر اپنے فیصلے کرے لیکن جو بات میں کہہ رہا ہوں اُس میں ایک فرق ہے۔وہ فرق یہ ہے کہ دنیا کے باشعور اور بالغ نظر سیاستدان عوام کے خیالات اور جذبات پر نظر تو رکھتے ہیں لیکن جب یہ سمجھتے ہوں کہ یہ جذبات اور خیالات خود قوم کے لئے مہلک ہیں اور خود سیاست کے لئے مہلک ہیں تو پھر اُن خیالات اور جذبات کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر وہ تبدیل نہ ہوسکیں تو خود الگ ہو جاتے ہیں اور ان خیالات کی پیروی نہیں کرتے۔اس کو حقیقت میں راہنما کہا جاتا ہے۔مشرقی پاکستان ٹوٹنے والا تھا اور بنگلہ دیش بنے والا تھا تو اس سے پہلے شیخ مجیب الرحمن صاحب سے ایک دفعہ مجھے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔اُن کو میں نے ہر پہلو سے سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ اپنے رستے کو تبدیل کریں اور جس راہ پہ آپ چل پڑے ہیں یہ قوم کے لئے شدید نقصان دہ ہوگا۔چنانچہ ایک موقع پر میں نے اُن سے کہا اور مجھے افسوس ہے کہ مجھے اُن سے یہ کہنا پڑا جس کا مجھے خیال تھا کہ اُن کو بہت