خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد ۸ 41 خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۹ء تھا کہ ہم سیکولر ازم کے نام پر آ رہے ہیں اور اُن کے منشور میں یہ بات داخل تھی۔عوام نے سب کچھ دیکھ کر سوچ سمجھ کر ان کے حق میں، اُن کی تائید میں فیصلہ کیا لیکن جب سیاسی دباؤ بڑھنے شروع ہوں تو اُس وقت سیاستدان کی اندرونی Integrity اُس کے اصولوں پر قائم رہنے کی طاقت کا امتحان ہوا کرتا ہے۔کیا اس امتحان پر یہ سارے پورے اُتر سکیں گے یا نہیں یہ ہے فیصلہ جو آج ہونے والا ہے۔جہاں تک میں پاکستان کے حالات کو جانتا ہوں میرے نزدیک وہ سیاستدان جو نیک نیت ہیں اُن میں بھی مضبوط قومی کے مالک بہت کم لوگ ہیں۔ایسے کردار کے مالک جو پوری عظمت کے ساتھ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُس کو چیلنج کر سکتے ہوں اور اصولوں کے سودوں پر تیار نہ ہوں ایسے بہت کم ہیں۔بھاری اکثریت اُن شرفاء کی ہے جن کی زبان ہوا کی تائید میں تو چلا کرتی ہے ہوا کے مخالف نہیں چلا کرتی۔جن کے ہونٹوں سے جو آواز بلند ہوتی ہے وہ نقار خانے کے شور کے مطابق ہوا کرتی ہے۔اُس طوطی کی آواز نہیں جو نقار خانے کے مقابل پر باوجود کمزور اور نحیف ہونے کے پھر بھی آواز بلند کرنے کی جرات کرتا ہے۔اس لحاظ سے ہمارے ملک میں سیاسی لحاظ سے ہمیشہ عدم استحکام رہا اور قائد اعظم کے بعد بدنصیبی سے قوم نے پھر کبھی با اصول سیاست کا منہ نہیں دیکھا۔یہ وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے کچھ خطرات دکھائی دیتے ہیں۔بہر حال جہاں تک جماعت کا تعلق ہے ایک اور پہل بھی ہماری کمزوری کا یہ ہے کہ اصول کی خاطر ہم نے خود سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔وہ ووٹ جس کی قیمت سیاستدان کی نظر میں ہوا کرتی ہے وہ تو ہمارے پاس نہیں ہے۔اُن سکوں سے جیب خالی ہے جو سیاستدان کی ہمدردی خرید لیا کرتے ہیں۔نہ وہ ظاہری سکتے ہیں نہ وہ سیاسی سکے ہیں ہمارے پاس اس لئے جماعت بالکل تہی دامن ہے اس پہلو سے۔اس لئے سوائے اس کے کہ کوئی سیاستدان عظیم کردار کا مالک ہو، بے انتہا با اصول ہو اور قوم کی آخری فلاح کی منزل کی طرف اُس کی نظر ہو اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوف کھا کر اپنے اصول کی راہ بدلنے پر کسی طرح آمادہ نہ ہو اس کے سوا وہاں حالات کے سدھرنے یا سدھرے رہنے کی کوئی اور صورت نہیں ہے۔اس وقت پاکستان کے حالات میں جہاں تک میں مطالعہ کر رہا ہوں مجھے دو قسم کے سیاستدان حکومت کی پارٹی کے اندر دکھائی دے رہے ہیں بلکہ تین قسم کے کہنا چاہئے۔ایک وہ ہیں