خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 462 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 462

خطبات طاہر جلد ۸ 462 خطبہ جمعہ ے جولائی ۱۹۸۹ء خلاف نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے اول طور پر یہ نعمتیں اپنے مومن بندوں ہی کے لئے پیدا کی ہیں۔پس اس وضاحت کے ساتھ چونکہ مجھے یقین ہے کہ اس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی اور زائد حسن جو ہمیں دکھائی دیتا ہے اس کی بھی خدا نے تو فیق عطا فرمائی۔اس لئے میں آج بہت خوش ہوں کے ایک ایسی مسجد میں مجھے آج خطبہ دینے کی توفیق مل رہی ہے جس کی بنا تقویٰ پر تھی اور اس کے ساتھ اس کو ظاہری زینت بھی خدا نے عطا فرما دی۔اس ظاہری زینت کا جہاں تک جماعت کے ساتھ تعلق ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ نہ بھی ہو تو اس کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں۔مجھے اپنے سفروں کے دوران خصوصاً پاکستان میں سفروں کے دوران بعض دفعہ ایسی مسجدوں میں نماز پڑھنے کا موقع ملتا تھا جو سادہ تھیں جسے ہم پنجابی میں تھڑا کہتے ہیں ایک تھڑ ا سا بنا کر اس کے ارد گرد کچی اینٹوں کی دیوار کھڑی کر کے گھاس پھوس کی چھت ڈال دی گئی اور کسی نے مسافروں کے لئے رستہ چلتے ہوئے مسجد بنادی۔بعض دفعہ ایسی مساجد میں نماز کا اتنا لطف آیا کہ بڑی سے بڑی شاندار مسجد میں بھی اس رنگ میں نماز کا لطف نہیں آیا کیونکہ اس کی سادگی میں ایک حسن تھا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کسی نے خدا سے محبت کرتے ہوئے، نماز سے محبت کرتے ہوئے رستہ چلنے والوں کا خیال کر کے ان کی خاطر یہ کام کیا ہے۔اس کے مقابل پر انہی سفروں کے دوران مجھے بعض دفعہ ایسی مسجدوں میں بھی نماز پڑھنے کا موقع ملا جن کے باہر مولوی ڈبے لے کر پیسے مانگتے اور ڈبے بجاتے اور کوشش کرتے کہ زیادہ خوبصورت دکھائی دینے والی مسجد بنائیں۔نماز کا لطف تو نمازی کے اوپر ہے لیکن بعض دفعہ ماحول اس پر اثر انداز ہوتا ہے۔اس پہلو سے ان مسجدوں میں نماز کے وقت مجھ پر کوئی خاص کیفیت طاری نہیں ہوئی کیونکہ میں جانتا تھا کہ دنیا کے دکھاوے کے لئے مسجد میں بنائی گئی ہیں۔ہمیں ضرورت ہے اس لئے ہم اس مسجد میں نماز کے لئے حاضر ہو گئے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا تقویٰ پر اگر اینٹ رکھی جائے یعنی تقویٰ کی اینٹ پر اگر بنیا درکھی جائے تو مسجد میں اس کے ماحول میں ضرور اثر پیدا ہو جاتا ہے۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ وہ مسجد بنانے والے بہت سے غیر احمدی تھے لیکن ان کی طرز سے مجھے خدا کی محبت نظر آئی۔مجھے اس مسجد میں داخل ہوتے ہوئے احساس ہوا کہ جس نے بھی یہ کام کیا ہے اللہ کے پیار کی وجہ سے کیا ہے۔اس لئے یہ خیال کبھی میرے دل کے کونے میں بھی نہیں آیا کہ چونکہ غیر احمدیوں نے مسجد بنائی ہے اس لئے اس مسجد کا کم