خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 459

خطبات طاہر جلد ۸ 459 خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۸۹ء ہیں۔بہت بڑی بڑی خوبصورت مساجد بھی ہیں ان میں سے لیکن ان کا پس منظر بھی یہی ہے کہ مقامی لوگ مل کر جب خدا توفیق دیتا ہے کسی کو کوئی تجارت میں فائدہ ہوتا ہے، کسی اور زمیندارے میں اچانک خدا کی طرف سے ان کی جھولی فضلوں سے بھری جاتی ہے تو ایک بڑا حصہ اس میں سے وہ مساجد کے چندے کے طور پر الگ کرتے ہیں اور ان کو ایک دلی لگن ہے اس کام سے۔پس کثرت سے ایسی مساجد ہیں جو کسی ذکر میں اور کسی شمار میں نہیں آئیں اور بنانے والوں نے کبھی اس رنگ میں سوچا بھی نہیں کہ یہ مساجد دنیا میں قابل ذکر مساجد ہیں یا ان کے ذکر کی خاطر ہمیں مرکز کو لکھنا چاہئے کہ وہ ہماری مساجد کا نام بھی لیں۔پس وہ مساجد بعید نہیں کہ بعض بڑی بڑی شاندار مساجد کے مقابل پر خدا کے نزدیک زیادہ مقبول ہوں اور مساجد کی مقبولیت کا فیصلہ دراصل آغاز کی نیتیں ہی کیا کرتی ہیں۔میرا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ نعوذ باللہ یہ مسجد اپنے پیچھے پاک نیتیں نہیں رکھتی۔میں صرف آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بعض دفعہ عمارتوں کی ظاہری عظمت بعض ایسی عمارتوں کو لذت سے پوشیدہ کر دیا کرتی ہے جن کی اندرونی عظمت ظاہری عظمت کے مقابل پر بہت زیادہ ہوا کرتی ہے۔ہم چونکہ ایک زندہ جماعت ہیں ، ہم چونکہ ایک موحد جماعت ہیں، ہم چونکہ جسم ہی کے نہیں بلکہ روح کے قائل ہیں اس لئے ہمیشہ ہمیں اس بات کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے۔دوسری بات مساجد کو عظمت دینے والی نمازی ہوا کرتے ہیں اگر نمازیوں کے دل میں خدا کا خوف ہو، خدا کی محبت ہو، خدا کی تو حید موجزن ہو تو ایسی مساجد کو رونق ملتی ہے۔پس یہ بہت سے ایسے امور ہیں جن کے متعلق کچھ میں پہلے بھی ذکر کرتا رہا ہوں، کچھ آج شام کو جب با قاعدہ اس مسجد کا ایسا افتتاح ہوگا جو رسمی رنگ رکھتا ہے لیکن اس خیال سے میں نے اسے کو قبول کیا ہے کہ ایسے موقع پر غیروں کو اسلام کی تبلیغ کرنے کا موقع میسر آجاتا ہے ورنہ میں نہ تو کسی مسجد کے افتتاح کا قائل ہوں نہ رسمی طور پر مجالس بلانے کا قائل ہوں کیونکہ جہاں تک میرا تاریخ اسلام کا علم ہے میرے نزدیک حضرت اقدس محمد مصطفی اے کے زمانے میں کسی مسجد کا افتتاح نہیں ہوا بلکہ یہ ذکر ملتا ہے کہ صحابہ حضرت اقدس محمد مصطف امی سے درخواست کیا کرتے تھے کہ ہماری مسجد میں بھی کوئی نماز ادا کریں، دو نفل ادا کر دیں تا کہ ہماری مسجد کو وفق ملے اور ان کی مراد غالباً قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ کرنا ہوتی تھی