خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 458
خطبات طاہر جلد ۸ 458 خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۸۹ء کوشش کریں۔اس سے بہتر ، اس سے مؤثر ، اس سے زیادہ ایمان افروز جواب نہیں دیا جا سکتا۔پس الحمد للہ کہ جماعت احمد یہ جو اطاعت کے جذبے سے سرشار ہے اور تمام کائنات میں اس وقت حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی بنائی ہوئی امت کہلانے کی مستحق ہے بہت ہی عمدہ رنگ میں ہرا پیل کا جواب دیتی ہے۔اس نے اس اپیل پر بھی توجہ کی اگر چہ یہ مسجد اپنی نمایاں خوبصورتی کے لحاظ سے، اپنی بڑائی کے لحاظ سے، اس لحاظ سے کہ دنیا کے ایک بہت ہی امیر اور بہت ہی اثر رکھنے والے شہر میں تعمیر کی جارہی ہے آج نمایاں طور پر ہمارے سامنے آرہی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ افریقہ کے غریب ممالک میں ، چھوٹے چھوٹے دیہات میں، دوسرے تیسری دنیا کے ممالک میں جماعت نے کثرت کے ساتھ مساجد تعمیر کی ہیں اور آج کے دن کی خوشی میں میں نے سوچا کہ ان مساجد کا ذکر بھی شامل کر لوں جن کو ظاہری دنیا کے لحاظ سے کوئی عظمت عطا نہیں ہوئی۔میں نے ایسی غریبانہ مساجد بھی دیکھی ہیں افریقہ میں جو گھاس بھوس کی بنی ہوئی ہیں، معمولی پتھر کی بنی ہوئی ہیں۔ایسی مساجد بھی دیکھیں جن میں دس دس سال سے جماعت محنت کر کے اینٹیں جوڑ کر ، کچھ پیسے جوڑ کر کچھ دوسرا سامان خرید کے وقار عمل کے ذریعے جتنی توفیق ملتی ہے اس مسجد کو کچھ آگے بڑھا دیتی ہے اور بعض ایسی مساجد دیکھیں جو چھتوں تک مکمل ہو گئیں تھیں لیکن چھت کے ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔کچھ ایسی مساجد دیکھیں جن میں چھتیں پڑ چکی تھیں لیکن دروازوں کے ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ایسی مساجد دیکھیں جہاں دروازے تو تھے مگر فرش بنانے کے لئے پیسے نہیں تھے، دریاں خریدنے کے لئے پیسے نہیں تھے لیکن عظمت کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ دنیا کی کسی دوسری مسجد سے پیچھے نہیں تھیں اور کئی پہلوؤں سے وہ تمام دنیا کی جماعتوں کے لئے اپنے اندر اعلیٰ مثالیں رکھتی تھیں۔ایسی کثرت سے مجھے جماعتیں دکھائی دیں جنہوں نے آج تک مرکز سے ایک آنے کی امداد کا بھی مطالبہ نہیں کیا۔نہ صرف مرکز سے بلکہ اپنے ملک کے ہیڈ کواٹر سے بھی اور اگر میں وہاں تفصیلی دورہ نہ کرتا اور گاؤں گاؤں جا کر مختلف جماعتوں کے حالات دیکھنے کی توفیق مجھے نہ ملتی تو میرے علم میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی کہ افریقہ کے لوگ خدا کے گھر بنانے میں کیسی مسلسل قربانیوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور کیسے خلوص کے ساتھ وہ خدا کے گھر بنانے میں مسلسل محنت سے کام لے رہے