خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 456
خطبات طاہر جلد ۸ 456 خطبه جمعه ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء طرف اشارہ کرتا کہ میں دوڑتا ہوا ان کی طرف بھی بڑھوں اور ہر قربان گاہ پر تیرے حضور قربانیاں دوں۔یہ ابراہیمی روح تھی جس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے غیر معمولی برکتوں کے وعدے کئے ورنہ انبیاء تو دنیا میں ہر قسم کے ہیں ایک دوسرے پر فضیلت رکھنے والے ان کے ساتھ وہ سلوک دکھائی نہیں دیتا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا گیا اور یہی خاص ابراہیمی روح تھی جس کے نتیجے میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺے کو آپ کی ذریت میں پیدا کیا گیا ہے۔وہ عظیم الشان قربان گا ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے وجود سے تعلق رکھتی ہیں وہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس دعا کے ساتھ ایک گہرا رابطہ رکھتی ہیں۔پس آپ کے اوپر ابراہیمی ہونے کی حیثیت سے اور محمد مصطفی علہ کے غلام ہونے کی حیثیت سے یہ غیر معمولی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا یہ بہت ہی حسین اور پیاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ بھی خدا کے حضور یہی سلوک کی راہ اختیار کریں اور اللہ سے یہ عرض کرتے رہیں کہ اے خدا جماعتی ذمہ داریوں پر ہمارے دل میلے نہ ہونے دینا۔جماعتی بوجھ جب ہم پر ڈالے جائیں تو ہمیں ایسا بد نصیب نہ بنانا کہ ہم سمجھیں کہ یہ کیا مصیبت پڑ گئی ہے۔ہم پر کیوں یہ بوجھ ڈالے جارہے ہیں بلکہ ہمارے دل میں ہمیشہ یہ تمنا جاری رکھنا اور بے قرار تمنا جاری رکھنا کہ ہم جب ایک کام کرلیں تو خلا سے گھبرائیں جب ایک مصروفیت سے فارغ ہوں تو دوسری مصروفیت کے لئے تمنادل میں پیدا کریں اور اس بات میں زیادہ خوشی محسوس کریں کہ ہم تیری خدمت کر رہے ہیں بہ نسبت اس کے کہ ہم دنیا کے کاموں میں مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور خدا کرے کہ یہ جماعت جلد جلد بڑھے اور نظام جماعت کے ساتھ موتیوں کی طرح منسلک ہو جائے۔ایسے موتیوں کی طرح نہیں جو زینت کے لئے استعمال ہوتے ہیں، جو دکھاوے کے لئے استعمال ہوتے ہیں بلکہ ایسے موتیوں کی طرح جو تسبیح کے دانے بن جاتے ہیں اور جن کے ساتھ جب انگلیاں حرکت کرتی ہیں تو ہر حرکت کے ساتھ خدا کا نام بلند ہوتا ہے اور انسان اس کی حمد اور ثناء کے گیت گاتا ہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔نماز جمعہ کے بعد نماز عصر بھی ادا کی جائے گی ساتھ ہی۔میں مسافر ہوں دورکعتیں پڑھوں گا مقامی دوست سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو کر عصر کی چار رکعتیں پوری کریں گے۔آپ میں سے جو مسافر ہیں وہ میرے ساتھ ہی سلام پھیریں گے۔