خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد ۸ 455 خطبه جمعه ۳۰ جون ۱۹۸۹ء میں بہت ہی زیادہ خدا کے حضور اپنی روح کو جھکاتے ہوئے اس کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہوئے یہاں سے رخصت ہوں کہ اللہ کے فضل سے یہ جماعت ترقی کی لامحدود راہوں پر گامزن ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں اجتماعیت کو یاد رکھیں ، اجتماعیت میں انسان کی زندگی ہے۔ فرد کی اکیلی زندگی کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ آپ کی انفرادی طاقتیں قطروں کی حیثیت رکھتی ہیں کہ قطرے اکٹھے ہوں گے تو دریا بنیں گے۔ اگر نہیں تو خشک زمینیں یہاں ہر طرف ایسی پھیلی پڑی ہیں جو قطروں کو جذب کریں گی اور جذب کر کے اس کی رسید تک نہیں دیں گی ۔ ان قطروں کو اپنا لیں گی ، ان کے اندر جو خدا نے تاثیر پیدا کرنے کی صلاحیتیں رکھی ہیں ہیں وہ تاثیریں ظاہر نہیں ہوں گی جو اجتماعیت سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگر آپ لوگ اجتماعیت اختیار کریں، نظام جماعت سے وابستہ رہیں ، اپنی خدمتیں پیش کریں اور خدمتیں نہ لینے کے نتیجے میں تکلیف محسوس کریں، کوشش کریں کہ آپ کے اوپر جماعت کے تقاضے بڑھیں ، آپ پر جماء جماعت بوجھ ڈالے اور لے اور آپ خوشی سے قبول کریں اور اگر بوجھ نہ پڑے تو تکلیف محسوس کریں ۔ یہ وہ روح ہے جو ابراہیمی روح ہے اور اس ابراہیمی روح کے نتیجے میں خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قیامت تک کی برکتوں کے وعدے کئے تھے۔ اس روح کا چھوٹا سا نظارہ کل سوال و جواب کے وقت ہوا جب ایک نوجوان نے اُٹھ کر یہ شکوہ کیا کہ ہم سے کم خدمت لی جا رہی ہے آپ کی نگہداشت کے سلسلے میں اور لاس اینجلس سے جو لوگ تشریف لائے ہیں ان کو زیادہ خدمت کا موقع دیا جا رہا ہے۔ یہ بات انہوں نے جیلسی کے نتیجے میں یعنی جلن کے نتیجے میں نہیں کہی بلکہ صاف ظاہر تھا کہ خدمت کا شوق تھا جس کی وجہ سے بے اختیار انہوں نے یہ بات کہی۔ یہ روح اپنی ذات میں بہت ہی قیمتی روح ہے۔ اس بات کی تمنا کرنا کہ خدا ہمیں خدمت کی توفیق بخشے اور خدمت نہ ہونے پر افسوس کرنا ، خدمت ہونے پر افسوس نہ کرنا ۔ اس کو میں نے ابراہیمی روح اس کرنا۔ لئے قرار دیا کہ قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے یہ دعا کی تھی کہ وَارِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا (البقرہ:۱۲۹) یہ ایسی عظیم الشان دعا ہے جس کا اور کہیں آپ کو ذکر نہیں ملے گا۔ خاص ابراہیم کی دعا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا ہمیں اور قربان گاہیں دکھا۔ جو قربان گاہیں، Alters قربانی کی ہمیں آپ نے بتائیں ان پر تو ہم تیرے فضل اور تیری توفیق کے ساتھ پورے اُتر رہے ہیں لیکن دل کی پیاس نہیں بھی۔ میں چاہتا ہوں کہ اے میرے آقا! تو مجھے اور قربان گاہوں کی