خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 450
خطبات طاہر جلد ۸ 450 خطبه جمعه ۳۰ / جون ۱۹۸۹ء یہ لوگ ہماری سوسائٹی کے لئے مفید وجود ہیں۔یہاں تک کہ بعض ایسی جماعتوں کے جشن صد سالہ کے موقع پر اُن کے گورنرز نے ، ان کے چیف منسٹرز نے ، ان کے MPS نے یا شرکت کی یا پیغام بھیجے اور اس بات کا اقرار کیا کہ یہ جماعت تھوڑی تو ہے لیکن غیر معمولی صلاحیتوں سے مزین ہے اور اس کی وجہ سے ہماری سوسائٹی کو بہت سے فوائد پہنچ رہے ہیں۔پس آپ کا تھوڑا ہونا اس راہ میں کوئی عذر نہیں کہ آپ سے اتنا عظیم الشان شہر سان فرانسسکو کو جو ساری دنیا میں مشہور ہے اور ساری دنیا میں ایک بہت ہی طاقتور اور با اثر شہر کے طور پر اس کے تذکرے چلتے ہیں اس میں یہ چھوٹی سی جماعت اثر پیدا کر سکے اس راہ میں آپ کا یہ عذر کافی نہیں کہ ہم تو بہت ہی تھوڑے ہیں ، ہماری تو کوئی گنتی نہیں ، ہمارا تو کوئی شمار نہیں ، ہم غریب لوگ ہیں، ہم میں سے اکثر باہر سے آنے والے ہیں اور اس سوسائٹی پر ہم کیا اثر انداز ہو سکتے ہیں؟ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اخلاق حسنہ وہ اخلاق جو تقویٰ سے پیدا ہوتے ہیں، وہ شخصیتیں جو تقویٰ کی بناء پر تعمیر پاتی ہیں ، وہ لوگ جو اللہ کی محبت دل میں رکھتے ہیں اور اس محبت کے نتیجے میں خدائی وجود بن جاتے ہیں وہ یقیناً با اثر اور بارسوخ وجود ہوتے ہیں۔ان کی تعداد کی کمی ان کے رسوخ کی راہ میں حائل نہیں ہوا کرتی۔چنانچہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کینیڈا کے سفر میں مشرق سے مغرب تک جہاں جہاں میں گیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں کی جماعتوں کی یہ غیر معمولی خوبی مجھے دکھائی دی۔ممبرز آف پارلیمنٹ (Members of Parliament)، وہاں کے میٹر ز ، وہاں کے ایلڈرمین (Eldermen) غرض یہ کہ جتنے مختلف قسم کے شہر کے نمائندے یا علاقوں کے نمائندے تھے جب وہ مجھ سے ملے تو انہوں نے بطور خاص اس بات کا ذکر کیا کہ ہم آپ کی جماعت کی اعلیٰ اخلاقی قدروں سے اتنا متاثر ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ جماعت نشو ونما پائے ، ہم اس جماعت کے ممنون ہیں کہ اس جماعت نے ہماری سوسائٹی میں نئے رنگ بھرنے میں ایک عظیم الشان کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔تھوڑے ہونے کے باوجود ہماری نظر ان پر تحسین کے ساتھ پڑ رہی ہے اور ہم اپنے پر لازم سمجھتے ہیں کہ بحیثیت امام جماعت احمد یہ آپ کے اس دورے پر خصوصیت کے ساتھ آپ کا شکریہ ادا کریں کہ آپ نے اتنی حسین جماعت کی تعمیر میں ایک کردار ادا کیا ہے۔یہ احساس کوئی معمولی احساس نہیں ہے۔اس احساس کا اعتراف اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے۔کینیڈا امریکہ کے برابر تو نہیں، امریکہ سے بہت معمولی طاقت کا ملک سہی لیکن ساری دنیا